قندوز: امریکہ ہسپتال متاثرین کے لیے معاوضہ ادا کرنے پر رضامند

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف طالبان باغی تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف طالبان باغی تھے

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ شمالی افغانستان میں میڈیسن سانز فرنٹیئر (ایم ایس ایف) کے ہسپتال پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کو معاوضہ ادا کرے گا۔

افغانستان کے شمال میں واقع شہر قندوز میں ایک ہفتے قبل ہونے والے اس بم حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ہسپتال کا عملہ اور مریض شامل تھے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ غلطی کی وجہ سے ہوا اور یہ کہ اصل ہدف طالبان کے باغی تھے۔

تاہم امدای تنظیم ’ایم ایس ایف‘ نے امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات عالمی کیمٹی سے کرائی جائے۔

ادھر امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ قندوز کے ہسپتال پر ہونے والے حملے میں جو افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں وہ امریکہ سے زرِ تلافی کے حقدار ہیں۔

پینٹاگون کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکی محکمۂ دفاع سمجھتا ہے کہ ایم ایس ایف کے ہسپتال میں ہونے والے المناک واقعے کے نتائج کی جانب دھیان دینا اہم ہے۔‘

محکمے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہسپتال کی مرمت کے لیے بھی رقم فراہم کی جائے گی۔

صدر براک اوباما نے ایم ایس ایف اور افغان رہنماؤں سے اس واقعے پر معافی مانگی ہے۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے وہ تاحال عملے کے ان 30 ارکان کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے اوائل میں طالبان نے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے افغان حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری رہی۔

واضح رہے کہ 14 سال بعد پہلی بار کوئی شہر طالبان کے قبضے میں آیا ہے جبکہ نیٹو افغان حکومت کے فوجیوں کو عسکری امداد فراہم کر رہا ہے۔