چین کا اپنا بحری عدالتی مرکز قائم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGoogle
چین نے کہا ہے کہ وہ علاقائی تنازعات حل کرنے کے لیے اپنا انٹرنیشنل میری ٹائم ’عدالتی مرکز‘ قائم کرہا ہے۔
چین کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے اس بارے میں چند ہی معلومات دی گئی ہیں، تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ یہ مرکز چین کو ایک ’بحری طاقت‘ بننے میں مدد دے گا۔
حالیہ مہینوں میں وسائل سے مالا مال جنوبی بحیرۂ چین کے پانیوں میں چین کی جانب سے مصنوعی جزیروں کی تعمیر کے عمل کے آغاز کے بعد بیجنگ اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تنازع جاری ہے۔
ادھر ڈیاؤیُو اور سِنکاکُو جزائر پہ بھی چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی کی فضا ہے۔
بین الاقوامی سمندری تنازعات عموماً اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
ان تنازعات میں جنوبی بحیرۂ چین پر چینی دعوے کے خلاف فلپائن کی جانب سے دائر کیا جانے والا مقدمہ بھی شامل ہے تاہم چین نے اس مقدمے کی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔
نئے عدالتی مرکز سے متعلق اعلان اتوار کے روز چین کی پارلیمان کے سالانہ اجلاس کے دوران چیف جسٹس زو شیانگ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عدالتی مرکز یا اس کے طریقۂ کار سے متعلق مزید کوئی معلومات دیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ’(ہمیں) ہرصورت چین کی قومی خود مختاری، سمندری حقوق، اور دیگر اہم حقوق کی حفاظت کرنی ہوگی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین میں دنیا میں سب سے زیادہ مقامی سمندری عدالتیں قائم ہیں اور چین کے سرکاری ریڈیو چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق انھوں نے گذشتہ سال 16 ہزار مقدمے نمٹائے تھے۔
چین کی جانب سے متنازع سمندری علاقوں میں مصنوعی جزیروں، ہوائی اڈے کے رن وے اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کشیدگی کے باعث امریکہ کی جانب سے بھی ان سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطابہ کیا گیا ہے۔
چین کے حریفوں کی جانب سے اس پر علاقے کو فوجی علاقے میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ وہ یہ تعمیر اپنے حقوق کے دائرے میں رہ کے کر رہا ہے اور یہ تعمیرات شہری مقاصد کے لیے ہیں۔







