’امریکہ جنوبی بحیرۂ چین کےتنازعے کو فوجی رنگ دے رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی فوج کی فضائی اور بحری سرگرمیوں سے جنوبی بحیرۂ چین کے تنازعے کو عسکری رنگ دے رہا ہے۔

یہ بیان چین کی جانب سے جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع جزیروں میں سے ایک پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد آیا ہے۔

جنوبی بحیرۂ چین کے جس جزیرے پر میزائل نصب کیے گئے ہیں اس پر چین کے علاوہ تائیوان اور ویت نام بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

میزائلوں کی تنصیب کی خبروں پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع جزیروں پر چین کی بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں پر امریکہ کو شدید تشویش ہے۔

چین نے ان اطلاعات کو ’مبالغہ آرائی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسے عالمی قوانین کے تحت اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے دفاعی تنصیبات تعمیر کرنے کا حق حاصل ہے۔

جمعے کو چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی جانب سے فضائی اور بحری گشت نے ’کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جنوبی بحیرۂ چین میں ہونے والی اصل عسکری سرگرمیاں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGoogle

جنوبی بحیرۂ چین میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر کے تنازعے کے آغاز کے بعد اس علاقے میں امریکی بی 53 بمبار طیارے اور جنگی بحری جہاز گشت کر چکے ہیں۔

امریکہ کا موقف ہے کہ اس قسم کے گشت کا مقصد تجارتی کے عالمی فضائی اور بحری راستوں تک سب کی رسائی یقینی بنانا ہے۔

چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعووں سے متصادم ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا سمندر میں مصنوعی جزیرے اور اس پر تعمیرات کا مقصد شہریوں کے لیے سہولیات پیدا کرنا ہے لیکن دوسرے ممالک اس کی ان کوششوں کو فوجی مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔