مزید چینی طیاروں کی متنازع جزیرے پر لینڈنگ

،تصویر کا ذریعہXINHUA
چین نے ایک بار پھر جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع مصنوعی جزیرے ’فیئری کراس ریف‘ پر اپنے دو مسافر طیارے اتارے ہیں۔
رواں برس دو جنوری کو بھی اس جزیرے پر چینی طیاروں کی لینڈنگ پر ویت نام اور امریکہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہا نے، چینی زبان میں یونگ شو کے نام سے پہچانے جانے والے جزیرے پر اترنے والے مسافر طیاروں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
ویت نام نے گزشتہ سنیچر کو جزیرے پر چینی طیاروں کی لینڈنگ کو اپنی سالمیت کی خلاف ورزی کہا تھا۔
بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر چین اپنا حق جتاتا ہے جو کہ دوسرے ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعووں سے متصادم ہے۔
ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters CSIS AMTI
چینی نیوز ایجنسی کےمطابق بدھ کی صبح چائنا سدرن اور ہینان ایئر لائن نامی کمپنیوں کے طیارے ہائیکو ایئر پورٹ سے اڑے اور مقامی وقت کے مطابق تقریبا 10:30 بجے فیئری کراس پر اتر گئے۔
تصویروں میں دونوں طیاروں کو ایک بالکل نئے رن وے پر اترتے ہوئے دکھایا گیاہے جس کے بارے میں نیوز ایجنسی نےلکھاہے کہ ’یہ ہمارے ملک کا انتہائی جنوبی ہوائی اڈہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بحیرے کا یہ حصہ سپارٹلی جزائر کا حصہ ہے جس پر چین، ویت نام اور فلپائن اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ان الزامات کے جواب میں بیجنگ کا اصرار ہے کہ وہ علاقے پر غیرمتنازع خودمختاری رکھتا ہے، اور یہ پرواز اتارنےکا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ہوائی اڈے کی نئی سہولیات سول ایوی ایشن کے معیار پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔
گزشتہ سال اپریل میں دفاعی امور پر شائع ہونے والے ہفت روزے آئی ایچ ایس نے تصاویر جاری کی تھیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ چین جزیرے پر ایک رن وے تعمیر کر رہا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ اس کا سمندر میں مصنوعی جزیرے اور اس پر تعمیرات کا مقصد شہریوں کے لیے سہولیات پیدا کرناہے لیکن دوسرے ممالک اس کی ان کوششوں کو فوجی مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔







