ویتنام اور چین کے درمیان طیارے کی لینڈنگ پر تنازع

،تصویر کا ذریعہ
ویتنام نے چین پر الزام لگایا ہے کہ اس نے متنازع بحیرۂ جنوبی چین (ساؤتھ چائنا سی) کے ایک مصنوعی جزیرے پر طیارہ اتار کرویتنام کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔
ویتنام کی وزرات خارجہ نے کہا ہے کہ چین نے بحیرۂ جنوبی چین میں سپریٹلی جزائر کے سلسلے میں ناجائز طور پر اپنا ہوائی اڈہ بنایا ہے۔ ویتنام کا دعوی ہے کہ سپریٹلی جزائر کا سلسلہ ان کا حصہ ہے۔
چین کہنا ہے کہ اسے ’فیئری کراس ریف‘ کے خطے پر مکمل خود مختاری حاصل ہے اور اس نے ایک غیر عسکری طیارے کو ہوائی پٹی پر اتار کر اس کے معیار کی جانچ کی ہے۔
بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر چین اپنا دعوی کرتا ہے جو کہ دوسرے ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعووں سے متصادم ہے۔
ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بھی سنیچر کو ہونے والی پرواز پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان پوجا جھنجھن والا نے کہا کہ ایسے ’تمام دعویداروں کو متنازع علاقے میں عوامی طور پر زمین پر مزید دعووں، نئی تعمیرات، عسکری اور تمام متنازع اقسام کی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم تمام دعویداروں کی عملی طور پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس سے کہ علاقائی استحکام کو خطرہ ہو اور ایسے اقدام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جس سے بامعنی سفارتی حل کے لیے ماحول سازگار ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنینگ نے کہاکہ ’چین نے پرواز کی مشق یہ جانچنے کے لیے کی تھی کہ آیا یہ ہوائی پٹی شہری ہوا بازی کے معیار کے مطابق ہے۔‘
انھوں نے سپریٹلی جزائر کا چینی نام لیتے ہوئے کہا: ’چین کا ننشا جزائر اور اس کے قرب و جوار کے پانیوں پر مکمل اختیار ہے۔ چین کو ویتنام کی جانب سے بے بنیاد الزامات قابل قبول نہیں ہیں۔‘
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہنونی میں وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ویتنام نے چینی سفارت خانے کو ایک احتجاجی نوٹ بھیجا ہے اور دوبارہ ایسے عمل کو کرنے سے باز رہنے کے لیے کہا ہے۔







