بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی جارحانہ قوم پرستی

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
گذشتہ دو ہفتے سے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کا واقعہ بھارت کی قومی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔
جے این یو کے سوال پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی، حکومت کی طرف سے طلبہ کے خلاف قانونی کاروائی کا شدت سے دفاع کیا گیا۔ حکومت اپنے اس موقف پر قائم رہی کہ جے این یو ملک دشمن سرگرمیوں کا مرکزبن گیا ہے اور ماؤ نواز انتہا پسند اور اسلامی جہادی جے این یو میں متحد ہو کر سرگرم ہیں۔
حکومت اور اس کی ہم نوا تنظیموں نے جے این یو کے پس منظر میں ملک میں قوم پرستی کی ایک ایسی فضا بنائی ہے کہ ملک میں ان سے اختلاف رکھنے والوں کو ’ملک دشمن‘ یا ان کا حمایتی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے پورا ملک دو دھڑوں میں منقسم ہے۔
جے این یو کے واقعے نے بہت سے گمبھیر سوال بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے صدرکنہیا کمار کو ’غداری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں ایک کیمپس میں ایک ملک مخالف پروگرام کا انعقاد کیا جہاں انھوں نے ملک کے خلاف نعرے لگائے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اس پروگرام کو پاکستان کی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے رہنما حافظ محمد سعید کی حمایت حاصل تھی۔ حکومت کی جانب سے ایک فرضی ٹویٹ پیغام کا حوالہ دیا گیا۔ بعض اعلیٰ پولیس افسروں نے اس ٹویٹ کو ثبوت کے طور پر ری ٹویٹ کیا۔ یہ کوئی نہیں جانتا کہ اسے کس نے ٹویٹ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کنہیا کمار پر یہ الزام لگایا گیا کا وہ ملک مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور حکومت حامی چینلوں پر بار بار دکھایا گیا۔ بعد کی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ یہ ویڈیو جعلی تھی اوراسے مسخ کیا گیا تھا۔ پولیس کنہیا کی گرفتاری کے 14 دن بعد بھی ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہں کر سکی ہے۔ پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ یہ طلبہ کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کریں۔
کنہیا کو عدالت میں پیش کرتے وقت درجنوں وکلا نے عدالت کے احاطے میں نعرے لگائے اور پولیس کی موجودگی اور پہرے میں کنہیا اور جے ان یو کے طلبہ اور پروفیسروں پر حملہ کیا۔ یہی نہیں اسے جیل کے اندر بھی مارنے کی دھمکی دی۔ تینوں حملہ آور وکلا ابھی تک آزاد ہیں۔
کنہیا اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ کسی یونیورسٹی کے ایک واقعے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ آر ایس ایس اور جمہوریت کی نظریاتی لڑائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت اختلاف اور مزاحمت کے ہر راستے کو بند کر دینا چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
حزب اختلاف کی جماعتوں اور بہت سے دانشوروں کا خیال ہے کہ ایک منظم طریقے سے خوف اور ڈر کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں پر آر ایس ایس کے نظریات مسلط کیے جا سکیں۔ حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔
ملک میں جارحانہ قوم پرستی کی ایسی فضا بنی ہوئی ہے کہ ’اظہار کی آزادی‘ کو زک پہنچنے لگی ہے۔ آر ایس ایس سے وابستہ طلبہ نے لکھنؤ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے خلاف مظاہرہ کیا ہے جنھوں نے ملک کے سرکردہ اخبار میں شائع ایک مضمون کو فیس بک پر لائک کیا تھا۔ اس مضمون میں ایک بہتر معاشرے کےلیے طلبہ کے سوال کرنے اور باغیانہ روش کو ایک فطری عمل کے طور پر قبول کرنے کی دلیل دی گئی تھی۔ لکھنؤ کے پروفیسر کو یونیورسٹی کی طرف سے نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے اس مضمون کو کیوں لائک کیا۔
علی گڑھ کے بی جے پی کے رکن پارلمیان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کیمپس میں حکومت مخالف اور ملک مخالف سیمینار، مذاکرے اور مظاہرے وغیرہ کی اجازت نہ دے۔ شہر کی بی جے پی کی میئر نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی کی کینٹین میں گائے کا گوشت بھی مینیو میں شامل ہے۔ پولیس نےتفتیش کے بعد میئرکے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پچھلے دنوں ملک کے معروف ماہر سماجیات اور دانشور آشش نندی نے 2008 میں نریندر مودی کی گجرات حکومت کے خلاف لکھے گئے ایک مضمون کے لیے معافی مانگ لی۔
ملک کی فضا جارحانہ قوم پرستی کے نعروں اور نفرت کی سیاست سے بوجھل ہے۔ یہ ملک سے محبت کی نہیں سیاسی نظریات کی جنگ ہے۔ سابق وزیرداخلہ پی چدامبرم نے گزرے ہوئے ایک برس کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے اس وقت بھارت جس طرح منقسم ہے اس طرح ماضی میں صرف دو بار ہوا ہے۔ پہلی بار سنہ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت اور دوسری بار ر بابری مسجد کےانہدام کے وقت معاشرہ اس طرح تقسیم ہوا تھا۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ ایک سنگین صورت حال ہوتی ہے جب معاشرے کے کچھ طبقوں کو ’محب وطن‘ اور کچھ کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا جانے لگے ۔







