کیا سیاچن پر سمجھوتے کے لیے دیر ہو چکی ہے؟

سیاچن 18 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا سب سے اونچا جنگی محاذ ہے

،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence

،تصویر کا کیپشنسیاچن 18 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا سب سے اونچا جنگی محاذ ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

سیاچن کے برفیلے تودوں میں دب کر دس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سے ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ سیاچن کو ایک غیر فوجی خطہ قرار دیا جانا چاہيے۔

سیاچن پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی میں کئی بار بات چیت ہو چکی ہے۔ یہ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے موضوعات میں بھی شامل ہے۔ پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں سیاچن کے محاذ پر کچھ ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہو ئی تھی تاہم اسی دور میں اس برفیلے محاذ پر دونوں مملک کی فوج کو پیچھے ہٹانے پر سمجھوتہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔

بھارت، پاکستان سرحد اور ایل او سی دنیا کی چند خطرناک ترین سرحدوں میں شامل ہیں۔ کشمیرمیں واقع ایل او سی ہر موسم میں متحرک رہتی ہے۔ ان سرحدوں پر ہرروز کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ دونوں جانب فوج ہر لمحہ چوکس رہتی ہے۔

اس کے برعکس 18 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا سب سے اونچا جنگی محاذ سیاچن اس لحاظ سےایک پرسکون جگہ ہےکہ یہاں ایل او سی کی طرح ہر وقت کوئی جنگی صورت حال نہیں ہے۔

برف پوش پہاڑیوں پر واقع سیاچن کا درجۂ حرارت گرمیوں میں منفی 15 تک ٹھندا ہوتا ہے اور سردیوں میں یہ نقطۂ انجماد سے 50 ڈگری نیچے تک آ جاتا ہے۔

یہاں سردیوں میں موسم منفی 50 ڈگری تک چلا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہاں سردیوں میں موسم منفی 50 ڈگری تک چلا جاتا ہے

یہاں کے خطرناک موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجیوں کو روس اور اسکینڈینیویائی ممالک سے درآمد کی گئی مخصوض جیکیٹس اور جوتے وغیرہ پہننے ہوتے ہیں۔ برفیلے موسم کی شدت سے وہاں فوجیوں کی تعیناتی صرف تین مہینے کے لیے ہی ہوتی ہے اور اس کےبعد انھیں وہاں سےکہیں اور منتقل کر دیا جاتا ہے۔

اس ناقابل برداشت موسم میں دونوں ملکوں کےسیکڑوں فوجی سیاچن کے محاذ پر تعینات ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1984 سے لےکر سنہ 2015 تک سیاچن میں بھارت کے 869 فوجی مارے گئے ہیں۔ یہ گولیوں کا نہیں بلکہ بیشتر موسمی حالات کا شکار ہوئے۔ یہی حالت پاکستان کی جانب بھی ہے۔

بھارت اپنے دفاع پر ڈھائی لاکھ کروڑ روپے یعنی 42 ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اس میں سے تقریبا دو ہزار کروڑ روپے سیاچن کے محاذ کے آپریشن کے لیے محضوص ہیں۔ دفا‏عی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم صورت حال کےلحاظ سے زیادہ نہیں ہیں۔

کچھ عرصے تک بھارت اور پاکستان کےدفاعی ماہرین اور حکومتی حلقوں میں اس امر پر اتفاق نظر آتا تھا کہ سیاچن کی محاذ آرائی بے معنی ہے اوریہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ اسے ایک غیر فوجی خطہ بنا نے پر سمجھوتہ کر لیا جائے۔

گذشتہ دنوں بھارت کے دس فوجی یہاں برف میں دب کر ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں بھارت کے دس فوجی یہاں برف میں دب کر ہلاک ہو گئے تھے

لیکن کرگل کی لڑائی کے بعد بھارت میں یہ سوچ تبدیل ہو چکی ہے۔

بھارت کےدفاعی ماہرین اور عسکری پالیسی سازوں کا خیال ہےکہ کرگل کی لڑائی اور کنٹرول لائن کی متحرک صورت حال کے پیش نظر پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی اب سیاچن گلیشیر کےاس طرف اور لداخ خطےمیں چین کی فوجیں بھی کافی متحرک ہیں اور اپنے اڈے بنا رہی ہیں۔ ان حالات میں بھارت سیاچن کو غیر فوجی خطہ بنانے کے بارے میں بالکل بھی سوچ نہیں رہا ہے۔

سیاچن میں گذشتہ ہفتےکئی بھارتی فوجیوں کا برف میں دفن ہونے کا جو المیہ پیش آیا ہے اس سے اس بےمعنی جنگی محاذ کے بارے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئےگی۔ آنےوالے بجٹ میں سیاچن میں تعینات فوجیوں کے لیے بہتر سازوسامان اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیےسیاچن پر صرف ہونے والی رقم میں کچھ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کےدرمیان سیاچن کی بے معنی جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک دونوں ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے اور یہ اعتبار اس وقت پوری طرح ٹوٹا ہوا ہے۔