سیاچن میں برف تلے دبا فوجی چھ دن بعد زندہ برآمد

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ چھ دن قبل سیاچن کے محاذ پر برفانی تودے کے نیچے دب جانے والے ایک فوجی جوان کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
فوج کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لانس نائیک ہنامن تھاپا چھ ہزار میٹر کی بلندی پر تقریباً آٹھ میٹر برف کے نیچے اپنے نو ساتھیوں سمیت دفن ہوگئے تھے۔
ان کے باقی سب ساتھی اس حادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ ہنامن کی حالت بھی تشویشناک ہے۔
بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ جیسے معجزانہ طور پر ہنامن اس حالت میں بھی زندہ رہے، وہ صحت یاب بھی ہو جائیں گے۔
فوج کا کہنا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ معجزہ جاری رہے۔ ہمارے ساتھ دعا کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
برفانی تودے گذشتہ بدھ کی صبح سیاچن گلیشیئر کے شمالی علاقے میں واقع ایک بھارتی فوجی چوکی پرگرے تھے۔
اس حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں لیکن تین دن قبل فوج نے کسی بھی جوان کے زندہ ہونے کی امید چھوڑ دی تھی۔
سیاچن گلیشیئر کو دنیا کا بلند ترین محاذِ جنگ کہا جاتا ہے جہاں بھارت اور پاکستان کی افواج 1984 سے صف آرا ہیں۔ اس خطے کی خودمختاری پر دونوں ممالک کے درمیان تنازعات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں پر سردی میں درجۂ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اور اس محاذ پر موسم کی سختی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد لڑائی میں مرنے والوں سے کہیں زیاد ہے۔







