74 کلومیٹر طویل برف کی خاطر 879 ہلاک

بھارت سیاچن پر فی سیکنڈ 18 ہزار روپے خرچ کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبھارت سیاچن پر فی سیکنڈ 18 ہزار روپے خرچ کر رہا ہے۔

حال ہی میں بھارت نے اپنے مزید دس فوجی دنیا کے بلند ترین محاذ پر برفانی طوفان کے ہاتھوں گنوا دیے ہیں۔

ذیل میں بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اس قیمت کا ایک جائزہ لیا ہے جو بھارت سیاچن گلیشئیر کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے گزشتہ تین عشروں سے ادا کر رہا ہے۔

موسمی حالات

  • سیاچن گلیشیئر پر درجہ حرارت منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے اور یہاں برفباری کی سالانہ اوسط ایک ہزار سینٹی میٹر سے بھی زیادہ ہے۔
  • لداخ میں بہنے والے بڑے دریائے نُبرا کے لیے پانی کا سب سے بڑا ذریعہ وہ برف ہے جو سیاچن گلیشیئر پر پگھلتی ہے اور پھر مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی اس دریا میں پانی کی صورت میں گرتی ہے۔
  • سنہ 2009 میں کیے جانے والے ایک جائزے کے مطابق سیاچن گلیشیئر پر برف مسلسل کم ہو رہی ہے اور اب اس کا حجم نصف ہو چکا ہے۔

سیاچن پر بھارت کے اخراجات

  • ایک اندازے کے مطابق بھارت سیاچن پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے کے لیے روزانہ دس لاکھ ڈالر یعنی چھ کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بھارت یہاں فی سیکنڈ 18 ہزار روپے خرچ کر رہا ہے۔
  • یہ رقم اتنی زیادہ ہے کہ اگر بھارت چاہتا تو اب تک ہر سال چار ہزار نئے سیکنڈری سکول بنا سکتا تھا، یعنی 30 برسوں میں وہ ایک لاکھ 72 ہزار سکول تعمیر کر چکا ہوتا۔ <image id="d5e367"/>
  • بعض اندازوں کے مطابق بھارت میں جس ایک روٹی کی قیمت دو روپے ہے اسے سیاچن پر بیٹھے ہوئے فوجیوں تک پہنچانے پر 200 روپے خرچ ہوتے ہیں۔

آپریشن میگھدوت

  • بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے سنہ 1949 کے معاہدۂ کراچی اور پھر سنہ 1972 کے شملہ معاہدے میں دونوں ممالک متفق تھے کہ لائن آف کنٹرول کے شمال مشرق میں واقع اس علاقے پر موسمی حالات انسانی زندگی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
  • لیکن پھر اپریل سنہ 1984 میں بھارت کو شک ہوا کہ پاکستان سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کرنے جا رہا ہے، اور بھارت نے پاکستان کو اس سے باز رکھنے کے لیے اپنے فوجی گلیشیئر پر بھیج دیے۔
  • بھارت نے یہ اقدام اس خبر کے بعد اٹھایا تھا کہ پاکستانی فوج کے اہلکار لندن میں برفانی علاقوں کے لیے مخصوص لباس خرید رہی ہے۔
  • اس خبر کے ملتے ہی بھارتی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں نے کُماؤں ریجمنٹ کے فوجیوں کی ایک پلاٹون کو سالتورو کی چوٹی پر اتار دیا اور یوں بھارتی فوج پاکستانی فوج سے ایک ہفتہ پہلے ہی گلیشیئر پر پہنچ گئی اور پاکستانی فوجیوں کو 109 کلومیٹر طویل برف پوش پہاڑوں پر عسکری اعتبار سے اہم مقامات تک پہلے پہنچنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

فوجیوں کو درپیش مشکلات

سنہ 1984 سے اب تک سیاچن پر 879 بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 33 افسر تھے اور باقی جوان۔

 ساتہ پاکستان کو بھی سیاچن گلیشیئر پر جاری تنازعے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن ساتہ پاکستان کو بھی سیاچن گلیشیئر پر جاری تنازعے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے

ہلاک ہونے والے فوجیوں کی اکثریت مخالف فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک نہیں ہوئے بلکہ یہ لوگ برفانی طوفانوں، شدید سردی میں اعضاء سُن ہو جانے اور انتہائی بلندی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

سطح سمندر سے 18 ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر جاتے جاتے انسانی جسم مسلسل کمزور پڑتا جاتا ہے اور اتنی بلندی پر:

  • ٹوتھ پیسٹ ٹیوب کے اندر ہی جم جاتی ہے۔
  • انسان کی قوتِ گویائی خراب ہو جاتی ہے۔
  • شدید سردی کی وجہ سے آپ کو فراسٹ بائیٹ اور چِل بلینز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
  • اکثر فوجیوں کو انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے سانس میں تکلیف، سر درد اور بلڈ پریشر کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔
  • فوجیوں کو ہر وقت برفانی لباس (اِگلو) میں ملبوس رہنا پڑتا ہے۔

سیاچن پر تعینات فوجی افسران کو ماہانہ 21 ہزار روپے سیاچن الاؤنس ملتا ہے جبکہ جوانوں کو 14 ہزار روپے ماہانہ کا اضافی الاؤنس دیا جاتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی سیاچن گلیشیئر پر جاری تنازعے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اور سنہ 2012 میں سیاچن کے قریب گیاری سیکٹر میں 140 پاکستانی فوجی برفانی طوفان کی نذر ہو گئے تھے، لیکن اتنے بھاری نقصانات کے باوجود دنیا کے اس بلند ترین محاز سے دونوں ممالک کے فوجیوں کی واپسی کی ہر کوشش ناکام رہی ہے۔