’سیاچن پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق‘

سیاچن پر مذاکرات کا اگلا دور دلی میں ہوگا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسیاچن پر مذاکرات کا اگلا دور دلی میں ہوگا

پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر دفاعی سیکرٹریوں کی سطح کے دو روزہ مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں پاکستان کے وفد کی نمائندگی سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی کر رہی تھیں جبکہ بھارتی سیکرٹری دفاع ششی کانت شرما نے ہندوستان کے وفد کی نمائندگی کی۔

مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ بات چیت دوستانہ ماحول میں ہوئی اور فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیاچن کے مسئلے کے مخلصانہ تصفیے کے لیے سنجیدہ، مسلسل اور نتیجہ خیز کوشش کی جائے گی۔

<link type="page"><caption> بہترین دوست اور بدترین دشمن ہی آتا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/06/120611_siachin_battle_pics_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حل طلب مسائل کے فوری حل کے لیے دونوں ممالک کے رہنماؤں کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاچن کے معاملے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاچن پر مذاکرات کا اگلا دور دلی میں ہوگا جس کی تاریخ باہمی سہولت کے مطابق سفارتی ذرائع سے بعد میں طے کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہونے سے محض ایک دن پہلے بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہویے کہا تھا کہ کسی ایسے اہم معاملے پر جو ہمارے لیے بہت ہی اہم ہے خاص طور پر قومی سلامتی کے تناظر میں ڈرامائی اعلان یا فیصلے کی توقع نہ رکھیں۔انھوں نے کہا تھا کہ محض ایک ملاقات میں آپ کسی ڈرامائی اعلان کی توقع نہیں کرسکتے’۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بات چیت کے دوران سیکرٹری دفاع سیاچن کے معاملے پر بھارت کا موقف واضح کریں گے۔

واضح رہے کہ سیاچن کا معاملہ وہاں گرنے والے برفانی تودے تلے دب کر ایک سو انتالیس پاکستانیوں کی ہلاکت کے بعد ایک مرتبہ پھر خبروں میں آیا ہے۔ ان 139 افراد میں گیارہ شہری اور ایک سو اٹھائیس فوجی شامل تھے۔

گیاری میں تودے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنگیاری میں تودے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے

اس واقعے کے بعد پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کو اس کے طریقۃ کار پر بات کرنی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی بہت ضروری ہے تاکہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جا سکے۔

لیکن ان کے اس بیان کے فوراً بعد پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان محمد معظم خان نے کہا تھا کہ سیاچن کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی اور موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل کا حل چاہتا ہے اور یہ کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کی فوجیں سیاچن میں ان پوزیشنز پر چلی جائیں جہاں وہ سنہ انیس سو چوراسی سے پہلے موجود تھیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن کے برف پوش پہاڑ دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ ہیں۔ پچھلے دو عشروں سے دونوں ملکوں کے فوجوں کے درمیان کشیدگی کی سبب وہاں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

تاہم ان پہاڑوں پر باہمی تصادم کے سبب دونوں جانب کے فوجی کم مارے گئے ہیں جبکہ سخت سردی اور خراب موسم کے باعث زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔