ہم جنس پرستوں سے تفریق کیوں؟

ہم جنسیت کا سوال امریکہ اور یوروپ جیسی پختہ جمہوری اورترقی یافتہ معاشروں ں میں بھی ایک عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہم جنسیت کا سوال امریکہ اور یوروپ جیسی پختہ جمہوری اورترقی یافتہ معاشروں ں میں بھی ایک عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کی سپریم کورٹ نے ہم جنسوں کے جنسی رشتوں کو جرائم کے زمرے میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنے کے الیے ایک پانچ رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا ہے۔

برطانوی دور حکومت میں 19 صدی کے ایک قانوں کے تحت ہم جنسی کا رشتہ ایک جرم ہے اور تعزیراتِ ہند کی دفعہ 377 کے تحت دو مرد یا خاتون ہم جنسوں کے درمیان جنسی عمل کے لیے انھیں دس برس قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اگر چہ اس قانون کا استعمال شاذ ونادر ہی ہوا ہے لیکن اسے ہم جنس برادری کو ہراساں کرنے کے لیے اکثر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

پولیس جرائم کی فہرست میں اس طرح کے جنسی رشتوں کو '’بد فعلی‘ اور ’غیرفطری سیکس‘ جیسے نام دیتی ہے۔

سنہ 2013 میں دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ہم جنسیت کو جرائم کے زمرے سے نکال دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مستر کردیا اور دفعہ 377 برقرار رکھی۔ اب اسی سپریم کورٹ نے ایک کیوریٹیو پٹیشن کے تحت اپنے ہی فیصلےکا جائزہ لینےکےلیے ایک پانچ رکنی آئینی بینچ قائم کیا ہے۔

ہم جنسیت کا سوال امریکہ اور یوروپ جیسی پختہ جمہوری اورترقی یافتہ معاشروں ں میں بھی ایک عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یوں تو دنیا کےسبھی مذاہب ہم جنسیت کو ایک بڑا گناہ اور فطرت کے منافی فعل سمجھتےہیں لیکن ہم جنسیت انسان کے وجود میں آنے سے لےکرتہذیب کی ہر منزل پر دنیا کے ہر معاشرے میں موجود رہی ہے۔

سنہ 2013 میں دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ہم جنسیت کو جرائم کے زمرے سے نکال دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مستر کردیا اور دفعہ 377 برقرار رکھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 میں دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ہم جنسیت کو جرائم کے زمرے سے نکال دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مستر کردیا اور دفعہ 377 برقرار رکھی

مذاہب اور بھارت جیسے قدامت پسند اور مذہب مائل ممالک ہم جنس پرستی کو ہمیشہ ایک غیر فطری اور مصنوعی رشتہ تصور کرتے رہے ہیں۔ایسےرشتوں کو معاشرے میں قانونی اور اخلاقی طور پر قبولیت حاصل نہیں رہی ہے۔

حقوق انسانی اور انسان کےانفرادی حق پر زور کےاس دور میں ہم جنس پرستی کی بحث اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بیشتر یورپی ممالک اور امریکہ کی متعدد ریاستیں ہم جنس برادری کے ساتھ تفریق کا ہر عمل ختم کر رہی ہیں۔ اب اس حقیقت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ ہم جنس برادری ہر معاشرے میں ایک بڑی برادری ہے اور اگر ان کا جنسی رحجان دوسرے انسانوں سے مختلف ہے تو اس کی بنیاد پران کےساتھ تفریق نہیں برتی جا سکتی۔

جمہوریت کے اس دور میں انسانوں کے انتخاب کی آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔ ہم جنس پرستی کو '’غیر فظری‘ قراردے کر کروڑوں انسانوں کو ان کی فطری طرز زندگی اور ہم جنسیت کے عمل سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

معاشرے میں مذاہب کا اپنا کردار ہوتا ہے اور جمہوری اداروں کا اپنا کردار۔ انفرادی آزادی اورزندگی کے حق کو یقینی بنانے کی ذمےداری ریاست کی ہوتی ہے۔

جمہوریت ایک بہتر سماج کی تشکیل کا ایک مستقل ارتقائی عمل ہے۔ مذاہب کو بھی انسانی تہذیب اور تغیر پزیر اقدار کے حقائق کو رفتہ رفتہ تسلیم کر لینا چاہيے، خواہ وہ اسے قبولیت دینےکے لیےتیار نہ ہو۔