کشمیری پنڈت کی آخری رسومات مسلمانوں نے کروائیں

 آخری رسومات کا سارا انتظام ان کے گاؤں کے مسلمانوں نے ہی کیا

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

،تصویر کا کیپشن آخری رسومات کا سارا انتظام ان کے گاؤں کے مسلمانوں نے ہی کیا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کولگام کے مالون گاؤں میں جانكی ناتھ واحد پنڈت تھے جو کشمیر چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔

گذشتہ دنوں جب انھوں نے 84 سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہا تو نم آنکھوں سے ان کی آخری رسومات کا سارا انتظام ان کے گاؤں کے مسلمانوں نے ہی کیا۔

ان کی آخری رسومات میں گاؤں کے مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی پہنچیں۔

سرکاری ملازمت سے ریٹائر جانكی ناتھ گذشتہ کئی مہینوں سے بیماری سے برسرپیکار تھے۔

ان کے گھر میں صرف ان کی بیوی ہیں جو بہت کمزور ہیں۔ ان کی بیٹی کی شادی ہو گئی ہے اور وہ گھر پر نہیں تھیں۔

اس لیے جنازہ مقامی مسلمانوں کو ہی کرانا تھا۔

گاؤں کے سرپنچ بشیر احمد الائی بتاتے ہیں کہ ‘جانكی ناتھ جی کی موت سے ہم سب دکھی ہیں کیونکہ یہاں اب ایک ہی پنڈت خاندان رہتا تھا۔ ہم یہاں پنڈت برادری کے ساتھ اسی طرح رہتے تھے جیسے ہم مسلمان آپس میں رہتے ہیں۔‘

پنڈت جانکی ناتھ کی آخری رسومات میں گاؤں کے مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی پہنچیں

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

،تصویر کا کیپشنپنڈت جانکی ناتھ کی آخری رسومات میں گاؤں کے مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی پہنچیں

گاؤں کے ہی رہنے والے علی محمد نظار کہتے ہیں کہ ‘جانکی ناتھ گذشتہ دو ماہ سے بہت زیادہ بیمار تھے۔ ہم ہر روز ان کے گھر جاتے اور رات دیر تک ان کے پاس ہی بیٹھ تھے.۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ‘جس رات جانكی ناتھ جی کی موت ہوئی، ہم سب ان کے گھر میں ہی تھے۔ ہم آج بھی ان پنڈتوں کے ساتھ رابطہ میں ہیں جو گاؤں چھوڑ کر 90 کی دہائی میں چلے گئے تھے۔‘

خیال رہے کہ سال 1990 میں مسلح تحریک شروع ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے لاکھوں پنڈت اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے اور انھوں نے بھارت کے کئی دوسری ریاستوں میں پناہ لی تھی۔