’قتل کرتے ہیں پھر رونے بھی نہیں دیتے‘

،تصویر کا ذریعہMAJID JAHANGIR
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔
سات نومبر کو جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سخت ترین سکیورٹی حصار میں حکمران پی ڈی پی اور ان کے اتحادی گروپوں کے کارکنوں سے خطاب کیا تو چند گھنٹے بعد ہی سرینگر کے نواح میں زینہ کوٹ کے قریب نیم فوجی اہلکاروں کی کاروائی میں 22 سالہ طالب علم گوہر نذیر ڈار مارا گیا۔
بدھ کے روز گوہر کی اجتماعی فاتح خوانی کے موقعے پر حکام نے کرفیو نافذ کیا ہے۔
پولیس نے اس ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا اور حکومت نے عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا، لیکن پچھلے چار روز سے کشمیر میں حالات تشیوشناک حد تک کشیدہ ہیں۔ پولیس کے مطابق اس عرصہ میں کم از کم 200 مقامات پر نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور ہندمخالف مظاہرے کیے۔
بدھ کے روز حریت کانفرنس (گ) کے رہنما سید علی گیلانی نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ زینہ کوٹ میں جمع ہوکر گوہر نذیر کی اجتماعی فاتح خوانی میں شرکت کریں۔ حکومت نے فاتح خوانی کے اجتماع کو ناکام کرنے کے لیے سرینگر سمیت دوسرے قصبوں میں کرفیو جیسی سکیورٹی پابندیاں نافذ کردیں۔

سخت ترین سکیورٹی پابندیوں کے باوجود گوہر نذیر کے گھر میں بدھ کے روز لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ اس موقعے پر خواتین توماتم کناں تھیں لیکن مردوں کی بات چیت چیت سے لگا کہ بھارت کے خلاف برہمی اور تحقیقات کے وعدوں پر عدم اعتماد باقی سب باتوں پر غالب ہیں۔
گوہر نذیر کے ہم جماعت دوست قاضی اطہر نے بتایا: ’یہ لوگ کیا تحقیقات کریں گے۔ 25 سال میں ایسے سینکڑوں واقعات ہوئے۔ کل کی بات ہے 2008 اور 2010 میں 200 نوجوانوں کو قتل کیا گیا۔ پھر تحقیقات کا اعلان ہوا۔ کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ یہ اعلان غصہ ٹھنڈا کرنے کی ایک چال ہے جو حکومت ہر بار چلتی ہے۔'
گوہر کے والد نذیر ڈار اس قدر غمزدہ تھے کہ انھوں نے بات کرنے سے معذرت چاہی۔ لیکن ان کے چچا حبیب اللہ ڈار نے اشک بار آنکھوں سے بتایا: ’ایک تو ہمارے لخت جگر کو قتل کیا۔ اور اب ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ چار روز سے یہاں شیلنگ ہورہی ہے۔ یہ لوگ قتل کرتے ہیں، پھر رونے بھی نہیں دیتے۔ کیا جمہوریت؟ سب بکواس ہے۔ ہندوستان کو اس کا خمیازہ آج یا کل بھگتنا ہی پڑے گا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

حبیب اللہ کے آخری جملے پر وہاں موجود لوگوں نے بلند آواز میں کہا ’انشاللہ' ۔
گوہر ڈار کی ہلاکت اور ایسے واقعات سے کشمیر میں ہندمخالف جذبات میں حددرجہ اضافہ ہوگیا ہے اور مبصرین کہتے ہیں کہ نوجوان اب اپنے آپ کو ’کرو یا مرو' جیسی صورتحال میں پاتے ہیں۔
منگل کو جنوبی کشمیر میں اننت ناگ کے ریلوے سٹیشن کے پاس ایک نوجوان نے پولیس والے کو چُھرا گھونپ کر اس کی بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن یہ واقعہ عوام میں پنپ رہے غصہ کا مظہر ہے۔
دریں اثنا یکم نومبر سے ہی سکیورٹی پابندیوں اور کرفیو کی وجہ عام زندگی تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ دراصل سات نومبر کو نریندر مودی کی آمد سے ایک ہفتہ پہلے ہی گرفتاریوں، جامہ تلاشیوں اور اہم شاہراہوں کی ناکہ بندی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیر اعلیٰ مفتی سعید نے اعلان کیا تھا کہ نریندر مودی کے آتے ہی لوگوں کی تقدیر بدل جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے متعدد دفاعی منصوبوں اور سیلاب زدہ آبادی کے لیے 80 ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا، لیکن تجارتی انجنموں نے اسے اعدادوشمار کا گورکھ دھندا قرار دیا۔ اس دوران اکثر امتحانات ملتوی ہوتے رہے اور تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سخت سردیوں سے پہلے اس طرح کی صورتحال انھیں مالی خسارے سے دوچار کرہی ہے۔
اس سب کے بیچ تمام علیحدگی پسند رہنما اور ان کے حمایتی گھروں میں نظر بند یا جیلوں میں قید ہیں۔ سید علی گیلانی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ عوام پر کریک ڈاون کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو ہمہ گیر احتجاجی تحریک چھیڑ دی جائے گی۔
کشمیر میں ایک بار پھر کشیدگی کی لہر کے بعد بی جے پی کی حمایت یافتہ مفتی سعید کی حکومت پر دباو بڑھ رہا ہے۔ کشمیر کا مسند اقتدار جاڑے میں جموں منتقل ہوجاتا ہے۔ ریاست کے سرمائی دارلحکومت جموں میں اقتدار سنبھالتے وقت مفتی سعید نے روایتی پریس کانفرنس سے بھی اجتناب کیا۔







