غذائی تحفظ کے قانون پر کشمیر میں احتجاج

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارتی حکومت نے ملک بھر میں غذائی تحفظ یا فوڈ سکیورٹی کا قانون نافذ کر کے غریبوں کے لیے سستے داموں پر ملنے والے چاول کی مقدار میں کمی کردی ہے۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھی حکومت نے اس قانون کے اطلاق کا اعلان کردیا ہے جس کی وجہ سے وادی بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔
ہند نواز اپوزیشن اور علیحدگی پسند گروپوں نے اس فیصلے کو نسل کشی سے تعبیر کر کے ہمہ گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ کئی روز سے سرینگر اور دوسرے اضلاع میں جگہ جگہ لوگ اپنے راشن کارڈ جلا کر احتجاج کررہے ہیں اور سڑکوں پر مردوں، بچوں اور خواتین نے حکومت کے خلاف احتجاج کیاہے۔
نئے قانون کی رُو سے اب چاول پانچ کلو فی کس کے حساب سے تقسیم کیا جائے گا، جبکہ اس سے قبل ہر خاندان کے لیے 35 کلو کی حد مقرر تھی۔
خیال رہے کہ کشمیر میں جب بھی کسی عوامی مسئلے پر احتجاج ہوتا ہے تو لوگوں کا غصہ بالآخر ہند مخالف جذبات کے اظہار پر منتج ہوجاتا ہے۔
تاجروں کی انجمن کے سربراہ شکیل قلندر کا خیال ہے کہ حکومت نے رعایتی خوراک کا نظام بدل ڈالا تو حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ شکیل کہتے ہیں: ’سب جانتے ہیں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے۔ حکومت پر لوگوں کا اعتبار نہیں ہے۔ ظاہر ہے چاول کی نئی تقسیم ناانصافی پر مبنی ہے۔ جب احتجاج ہوگا تو ہند مخالف جذبات کا بھڑکنا قدرتی بات ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت ہند ان سے اس بات کا بدلہ لے رہی ہے کہ وہ آزادی مانگتے ہیں۔‘

فی الوقت کشمیر کی کل آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ ہے جس میں سے صرف 70 لاکھ افراد کے لیے سرکاری تقسیم کاری کے تحت رعایتی داموں پر چاول دستیاب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پونے پانچ لاکھ ٹن چاول کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں وہ صرف تین لاکھ پچیس ہزار ٹن ہی ذخیرہ کرپاتے ہیں۔
خوراک اور عوامی تقسیم کاری محکمہ کے سربراہ اعجاز احمد وار کا اصرار ہے کہ نئے قانون کے نفاذ سے لوگوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ مسٹر وار کہتے ہیں کہ سابقہ نظام کے تحت صرف 22 لاکھ لوگ سستے داموں پر چاول خریدنے کے مستحق تھے، لیکن نئی تبدیلی کے تحت 42 لاکھ افراد اس سکیم سے مستفید ہوں گے۔
واضح رہے کہ بھارتی وفاق میں کشمیر کو خصوصی آئینی پوزیشن حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت وفاقی قوانین کا اطلاق کشمیر پر کشمیری عوامی کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شکیل قلندر کہتے ہیں کہ حکومت کا اعلان سرے سے غیرقانونی ہے۔ انھوں نے کہا: ’یہ تو طے ہے کہ کوئی بھی بھارتی قانون کشمیر میں یہاں کی اسمبلی کی توثیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن حکومت نے فوڈ سکیورٹی ایکٹ کو نافذ کرنے کا اعلان کرکے ایک دوہرا تنازع کھڑا کیا ہے۔‘

دریں اثنا علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے بھی اس قانون کے اطلاق کو کشمیرمخالف قرار دیا ہے۔ میرواعظ عمر نے 11 کلو فی کس کے حساب سے اناج تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے خوراک و عوامی تقسیم کاری کے وزیر چودھری ذولفقار نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اس قانون پر نظرثانی کرے گی اور تب تک لوگوں کو سابقہ مقدار کے حساب سے ہی راشن ملے گا۔
50 برس قبل جب یہاں کے مقبول رہنما شیخ محمد عبداللہ نے جیل سے ہند مخالف تحریک کا اعلان کیا تو اُس وقت کے حکمران بخشی غلام محمد نے نئی دلّی کو مشورہ دیا تھا کہ لوگوں کو مفت اناج ملے گا تو ان کے ہند مخالف جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ’لیکن آج اس نئے قانون سے لگتا ہے کہ حکومت ہند کو اعتماد ہے کہ کشمیر پر اس کا پورا کنٹرول ہے۔‘
شاعر اور نقاد بشیر بیتاب خان کہتے ہیں: ’لوگوں کو جب یہ احساس دلایا جائے کہ حکومت ان کی بہبود سے بے فکر ہو رہی ہے تو حکومت مخالف تحریکوں کا اُٹھنا ایک فطری نتیجہ ہوتا ہے۔‘







