کشمیر: تصادم میں شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

اطلاعات کے مطابق فوج اور شدت پسندوں کے درمیان بدھ کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپیں ابھی بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق فوج اور شدت پسندوں کے درمیان بدھ کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپیں ابھی بھی جاری ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سکیورٹی حکام نے فورسز کے ساتھ ہونے والے ایک تصادم میں لشکرطیبہ کے ایک کمانڈر ابو قاسم کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کے مطابق تصادم کا یہ واقعہ جمعرات کی صبح جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ہوا۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق فوج کے ساتھ شدت پسندوں کا تصادم بدھ کی رات شروع ہوا تھا جو جمعرات کی صبح تک جاری رہا۔

وادی کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید مجتبی گیلانی نے میڈیا سے بات چیت میں اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ پولیس کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’وہ وادی میں گذشتہ پانچ برس سے فعال تھے اور اس دوران لشکر طیبہ نے جو بھی کارروائیاں کیں وہ انہیں کی قیادت میں ہوئیں۔ اس سے ان کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔‘

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں، جو ابھی بھی جاری ہے، راشٹریہ رائفل کے 14 جوان بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ابو قاسم کو اس برس پانچ اگست کو اودھم پور میں سرحدی سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) کی ایک ٹکڑی پر حملے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔

خبروں کے مطابق بدھ کی رات کو فوج کو خبر ملی کہ سرینگر سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر باندی پورہ کے جنگلوں میں کچھ شدت پسند چھپے ہوئے ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر فوج نے اس علاقے کا محاصرہ کر لیا۔

اس کے بعد دونوں جانب سے ہونے والی فائرنگ میں ابو قاسم مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق فوج اور شدت پسندوں کے درمیان بدھ کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپیں ابھی بھی جاری ہے۔