اب زلزلے کا خوف نہیں رہا
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں دس برس قبل آنے والے زلزلے سے تعلیمی ادارے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اس وقت بچوں پر کیا بیتی یہ جاننے کے لیے ہم نے اس وقت سکول میں زیرِ تعلیم فریحہ ممتاز سے بات کی جنھوں نے اپنی آپ بیتی کچھ ان الفاظ میں بیان کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 2005 میں، میں پانچویں جماعت کی طالبہ تھی اور 8 اکتوبر کی صبح معمول کے مطابق سکول گئی تھی۔
ہم پڑھائی میں مصروف تھے کہ اچانک ایک زوردار آواز آئی اور پھر زمین ہلنے لگی۔ کمرہ اس طرح گھوما کہ ہم سب عمارت سے باہر آ گرے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ سب طرف چیخ و پکار تھی۔
اس وقت مجھے سب سے پہلا خیال اپنے گھر کا آیا اور خدا کا شکر کہ گرتی ہوئی عمارتوں اور سڑکوں پر نکل آنے والے لوگوں کے ہجوم میں بھی میں راستہ نہیں بھٹکی۔ میں گھر کی طرف آئی، راستے میں ہی مجھے امی نظر آئیں جو چھوٹی بھانجی کو اٹھائے کھڑی تھیں۔
امی سے ابو کا پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ بھائی کو لینے اس کے سکول گئے ہیں۔ میں نے امی سے کہا کہ گھر چلیں تو پتہ چلا کہ ساتھ والے گھر کی پانی کی ٹینکی گرنے کی وجہ سے ہمارا گھر ٹوٹ چکا ہے اور گھر میں پانی بھی بھر گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سڑک کے کنارے کھڑے ہم ابو کا انتظار کرنے لگے۔ پتا نہیں کتنا وقت گزر گیا تب ہی بڑی باجی نے آ کر بتایا کہ تمام سکول اور کالج گِر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عجیب منظر تھا۔ ایک زخمی عورت سڑک پر پڑی تھی اور اس کا خاوند اس کی دونوں ٹوٹی ہوئی ٹانگیں اسی کا دوپٹہ پھاڑ کر باندھ رہا تھا۔
ہم اپنے گھر کی طرف جانے لگے تو ہمارے ہمسائے منظور انکل اپنی اکلوتی بیٹی کا جنازہ سامنے رکھ کر رو رہے تھے اور سب سے کہہ رہے تھے کہ ’کسی باپ نے نہیں کہا ہوگا کہ آؤ میری بیٹی کو دیکھو۔ لیکن آج میں سب سے کہتا ہوں کہ آئیں اور میری بیٹی کو آخری بار دیکھ لیں۔‘
پھر میری ایک کلاس فیلو کا جنازہ لا کر سامنے رکھا گیا تو مجھے بہت عجیب لگا کہ یہ کیسے مر سکتی ہے؟ کیا زلزلے سے بچے بھی فوت ہو جاتے ہیں؟
شام ہونے لگی تھی۔ میری ایک بہن جو کالج کے ملبے سے کافی دیر بعد ڈری سہمی نکلی تھی۔ وہ بھی آ گئی۔ اس کے علاوہ کسی کی کوئی خبر نہیں تھی اور نہ ہی بھائی آیا تھا۔
رات بھی قیامت کی رات تھی۔ پوری رات سردی اور بھوک سے بےحال تھے۔ اگلی صبح بھی زلزلے کے جھٹکے جاری تھے لیکن ایک امید تھی کہ اب میرا بھائی اور بہنیں آ جائیں گی۔
دوپہر میں جب ابو بھائی کے سکول سے آئے تو ان کے چہرے پر مایوسی، درد اور تکلیف تھی۔ ان کی آواز بھی بند ہو رہی تھی۔ ان کو اس کیفیت میں دیکھا تو بہت ڈر لگا، ایک عجیب سا خوف تھا۔
بڑی مشکل سے ابو نے کہا کہ ’لے آیا ہوں بھائی کو، حوصلہ رکھنا۔‘
بھائی آیا ہے تو خوشی کی بات ہے پھر یہ اداسی کیوں ؟ لیکن جیسے ہی اسے چارپائی پر لیٹے دیکھا تو جسم سے جیسے جان نکلنے لگی۔ جو بھائی صبح ہنستا کھیلتا سکول گیا تھا، کیسے سو گیا وہ بھی ہمیشہ کے لیے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
اسی شام ہمیں مانسہرہ لے گئے، ایسا لگ رہا تھا جیسے اب ہم بھی ختم ہو جائیں گے۔
زلزلے کے تین ماہ بعد ہم واپس مظفرآباد اپنے گھر آئے تو ایک سہیلی نے بتایا کہ سکول پھر سے کھل گئے ہیں تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ سکول کیسے کھل سکتے ہیں؟ سب کچھ تو ختم ہو گیا ہے۔ جیسے ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکول نہ جائے، ویسے مجھے سکول بند ہونے کی خوشی تھی۔
جب سکول گئی تو وہاں میری کتابیں بستہ کچھ بھی نہیں تھا۔ سب زلزلے کی نذر ہو گیا تھا۔
سکول کی عمارت کا ملبہ جوں کا توں پڑا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم سب نے وہیں ملبے کے ڈھیر پر پڑھائی شروع کی تھی۔
سکول کی کئی لڑکیاں اور ٹیچرز زلزلے میں ہلاک ہوئیں۔ کچھ عرصے تک ذکر بھی ہوتا تھا لیکن لوگ کہتے ہیں کہ شاید اتنی بڑی تباہی صدیوں میں ایک بار آتی ہے اس لیے اب ایسا کچھ نہیں ہوگا اور اسی چیز نے زلزلے کا خوف دھیرے دھیرے ختم کر دیا ہے۔







