بالاکوٹ کی بیوائیں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

بیگم جان کا بیٹا اور بہو دس سال پہلے زلزلے میں ہلاک ہوگئے تھے اور بیمار شوہر کے انتقال کے بعد اس گھرانے میں اب کمانے والا کوئی نہیں
،تصویر کا کیپشنبیگم جان کا بیٹا اور بہو دس سال پہلے زلزلے میں ہلاک ہوگئے تھے اور بیمار شوہر کے انتقال کے بعد اس گھرانے میں اب کمانے والا کوئی نہیں
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بالاکوٹ

خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ میں 2005 میں آن والے زلزلے نے جہاں 18 ہزار افراد کی جان لی وہیں ہزاروں خواتین کو بیوگی کا غم سہنا پڑا اور بہت سی ایسی ہیں جو گھر کے کفیل چھن جانے کی وجہ سے دس برس بعد بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بیگم جان دو کمروں کے چھوٹے عارضی مکان یا شیلٹر میں دیوار کے سہارے بیٹھی ان سوچوں میں گم تھیں کہ شام کو بچوں کے لیے کھانا کہاں سے آئےگا؟

بیگم جان کی عمر لگ بھگ 70 سال ہے اور ان کے کمزور کاندھوں پر دو پوتیوں اور ایک پوتے کی پرورش کا بوجھ ہے۔

بڑی پوتی چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور ایک ٹانگ نہ ہونے کی وجہ سے بیساکھی کے سہارے چلتی ہے۔

بیگم جان کا بیٹا اور بہو دس سال پہلے زلزلے میں ہلاک ہوگئے تھے اور بیمار شوہر کے انتقال کے بعد اس گھرانے میں اب کمانے والا کوئی نہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے دیا گیا دو کمروں کا عارضی فیبریکیٹڈ مکان اب ان کا مستقل ٹھکانہ بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے گھر میں تو کوئی مرد نہیں ہے کہ قطاروں میں کھڑے ہو کر درخواستیں دے اور پھر اپنے نام پر کوئی پلاٹ یا امداد حاصل کر سکے۔ جو کچھ ہے اس چھت کے نیچے وہ لیے بیٹھے ہیں، یہاں گھر میں کوئی اگر کچھ آ کر دے جاتا ہے تو گزارہ ہوتا ہے ورنہ فاقہ ہی کر لیتے ہیں۔‘

بالاکوٹ کی یونین کونسل گرلاٹ کی گلشن بی بی بھی ایک بیوہ ہیں۔ ان کا ایک بیٹا اور بہو زلزلے میں ہلاک ہو گئے تھے اور اب ایک بیٹے اور بہو کے علاوہ ایک بیٹی اور ایک پوتا ان کے پاس رہتے ہیں۔

گلشن بی بی نے بتایا کہ انھیں ایک شیلٹر ملا تھا جو انھوں نے کسی اور کی زمین پر نصب کر لیا ہے لیکن مکان بنانے کے لیے پلاٹ نہیں ملا۔

گلشن بی بی کی بیٹی کے شوہر زلزلے میں ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد انھوں نے دوسری شادی کی۔ ان کے بھی تین بچے ہیں اور وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہیں۔

’ کچھ خواتین کو فنی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ خود اپنے لیے کمانے کے قابل ہوں‘
،تصویر کا کیپشن’ کچھ خواتین کو فنی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ خود اپنے لیے کمانے کے قابل ہوں‘

گلشن بی بی کا کہنا تھا کہ تین خاندان یہاں رہ رہے ہیں جس سے گزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔

انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ انھیں باقی کی فکر نہیں ہے لیکن اس پوتے کی فکر زیادہ ہے جس کے ماں باپ مر چکے ہیں اور وہ پریشان ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد پوتے کا کیا ہو گا۔

گلشن بی بی نے بتایا کہ یہاں لوگ کہتے ہیں کہ انھیں سب کچھ دیا جائے گا پلاٹ ملیں گے اور مکان بنا دیے جائیں گے لیکن کچھ بھی تو نہیں ہو رہا اور حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کر رہی۔

زلزلے کے بعد بالاکوٹ کا معاشی اور معاشرتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے ترجمان مظہر علی نے بتایا کہ زلزلے میں بالاکوٹ کی آبادی کی بڑی تعداد زخمی ہوئی تھی جن میں سے بیشتر اب معذور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ نشے کے عادی ہو رہے ہیں اور اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ اس علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

مظہر علی کے مطابق خواتین اور خاص طور پر ایسی خواتین جن کے شوہر یا گھر کے کمانے والے افراد نہیں رہے وہ اس وقت انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’ کچھ خواتین کو فنی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ خود اپنے لیے کمانے کے قابل ہوں لیکن علاقے میں غربت ایسی ہے کہ کوئی کام بھی نہیں ہو پا رہا۔‘