گاؤ کشی کے قانون کے مخالف سیاستدان پر سیاہی پھینک دی گئی

’بیف پارٹی‘ کے اگلے ہی دن بی جے پی کے اراکین ِ اسمبلی نے انجینیئر رشید پر ایوان میں ہی حملہ کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن’بیف پارٹی‘ کے اگلے ہی دن بی جے پی کے اراکین ِ اسمبلی نے انجینیئر رشید پر ایوان میں ہی حملہ کر دیا تھا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ’گاؤ کشی‘ یا گائے ذبح کرنے پر پابندی کے قانون کے مخالف جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید پر نئی دہلی میں سیاہی پھینکی گئی ہے۔

ادھر گذشتہ ہفتے ہندوؤں کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں زخمی ہونے والے مسلمان ٹرک ڈرائیور کی ہلاکت پر پیر کو سری نگر میں علیحدگی پسندوں کی کال پر مکمل ہڑتال ہوئی ہے۔

سرینگر، اننت ناگ اور دوسرے حساس مقامات پر سکیورٹی سخت ہے تاہم اس کے باوجود جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ہندو اکثریتی ضلع ادھم پور میں ہونے والے حملے میں زخمی ہونے والے زاہد احمد اتوار کو نئی دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔

زاہد اور ان کے ساتھی نو اکتوبر کو ایک ٹرک میں کشمیر آ رہے تھے کہ انھیں ادھم پور میں تیز دھار والے ہتھیاروں سے لیس ہندو ہجوم نے روکا اور ٹرک میں پیٹرول بم پھینک دیا جس کے باعث زاہد اور اس کا ایک ساتھی بری طرح جھلس گئے تھے۔

یہ حملہ ریاست میں گائے کشی کے فرسودہ قانون کے اطلاق سے متعلق متنازع عدالتی حکم نامے کے پس منظر میں ہوا تھا۔ اس حکم نامے سے پہلے ہی وادی میں سیاسی اور سماجی سطح پر کشیدگی کا ماحول ہے۔

زخمی زاہد احمد کو جب علاج کے لیے دہلی منتقل کیا گیا تو کشمیر کے ایک رکن اسمبلی انجینیئر رشید ان کی امداد اور اعانت کے وہاں گئے تھے۔

پیر کو جب انجینیئر رشید نے زاہد کی موت کے خلاف دہلی میں ہی احتجاج کرنے کا ارادہ کیا تو ان کے چہرے پر بعض افراد نے سیاہی پھینک دی ۔

کشمیری رکنِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ یہ حرکت ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس اور حکمران بی جے پی کے حمایتیوں نے کی۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’نریندر مودی صرف بی جے پی یا آر ایس ایس کے وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ اگر وہ ایسی اشتعال انگیز حرکتیں کرنے والے اپنے کارکنوں کو کنٹرول نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کشمیریوں کو کسی اور راستے پر دھکیلنا چاہتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ انجینیئر رشید نے کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں گاؤ کشی کے قانون کے خاتمے کے لیے بل بھی پیش کیا تھا اور اس پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپنی رہائش گاہ پر ’بیف پارٹی‘ کا اہتمام کیا تھا۔

اس پارٹی کے اگلے ہی دن بی جے پی کے اراکین ِ اسمبلی نے ان پر پر ایوان میں ہی حملہ کر دیا تھا۔