کشمیر میں دفعہ 35A ختم ہوئی تو کیا ہو گا؟

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے بعد اب ہندنواز سیاسی تنظیمیں بھی برملا کہتی ہیں کہ ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی وادی میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
87 رکنی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تین روز سے اپوزیشن جماعتیں بھارتی آئین کی ایک ایسی دفعہ کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں جو مسلم اکثریت کے مفاد کا تحفظ کر رہی ہیں۔
بھارتی آئین کی دفعہ 35 اے کے تحت بھارتی شہریوں کو کشمیر میں زمینیں خریدنے، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے، ووٹ ڈالنے اور دوسری سرکاری مراعات کا قانونی حق نہیں ہے۔
یہ دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے جسے 68 برس قبل بھارتی آئین میں شامل کیا گیا تھا۔
1953 میں اُس وقت کے خودمختار حکمران شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رُو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن بھارت میں بی جے پی کا اقتدار قائم ہوتے ہی آر ایس ایس کی حمایت یافتہ این جی او جموں کشمیر سٹڈی سینٹر کے سربراہ آشوتوش بھٹناگر نے بھارتی سپریم کورٹ میں اسی آئینی دفعہ کو چیلنج کیا۔ اب معاملہ زیرسماعت ہے اور سپریم کورٹ نے مفتی سعید کی حکومت کو عذرات پیش کرنے کے لیے تین نومبر تک کا وقت دیا ہے۔
گذشتہ ہفتے کو 87 رکنی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی اس معاملہ پر اپوزیشن جماعتوں نیشنل کانفرنس، کانگریس اور بعض آزاد اراکین نے حکومت کو ہدف تنقید بنایا اور اس معاملہ پر ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
واضح رہے کہ قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کوندر گپتا بی جے پی کے رہنما ہیں اور انھوں نے بھرے ایوان میں اعلان کیا کہ انھیں ہندوؤں کی شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کا رکن ہونے پر فخر ہے۔
منگل کو اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی پر یہ معاملہ حاوی رہا اور اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ کیا۔ ہنگامے کی پاداش میں سپیکر نے نیشنل کانفرنس کے دو اراکین کو معطل کیا تو عمرعبداللہ نے اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
مسلم اکثریتی جموں کشمیر میں بھارتی آئین کی اس دفعہ کو ایک حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرسپریم کورٹ نے اس کے خاتمے کا فیصلہ سنایا تو کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب بدل جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا ہے کہ1947 میں جو چھ ہزار ہندو خاندان ہجرت کر کے بھارت آئے تھے، ان کی تعداد اب چار لاکھ تک پہنچ گئی ہے، قانونی بندش ہٹ گئی تو ان چار لاکھ ہندوں کے ساتھ ساتھ تمام فوجی اہلکاروں اور افسروں کو تین سالہ تعیناتی کے بعد یہاں مستقل شہریت دی جائے گی۔
واضح رہے عدالت نے مفتی سعید کی حکومت کو عذرات پیش کرنے کے لیے تین نومبر کا وقت دیا ہے، لیکن مفتی سعید ابھی تک اپنی شریک اقتدار بی جے پی کو دفعہ پینتیس اے کے دفاع پر آمادہ نہیں کرسکی ہے۔
اپوزیشن گروپوں، سماجی حلقوں اور علیحدگی پسندوں کو خدشہ ہے کہ حکمران بی جے پی کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کر کے یہاں ہندوں کی بھاری تعداد کو آباد کروانا چاہتی ہے اور اس کے لیے دفعہ 35A ہٹا کر راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
واضح رہے برٹش انڈیا کی تقسیم کے وقت پاکستان سے 60 ہزار ہندو مہاجرین بھارت آئے تھے، جنھیں جموں میں بسایا گیا۔ اس دفعہ کے ہٹنے سے اُن مہاجرین کو مستقل شہریت دی جائے گی جن کی تعداد اب چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اگر آئین کی اس دفعہ کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تو سابق فوجیوں کی کالونیوں کی بے تحاشا تعمیر شروع ہو جائے گی اور فوجی اہلکاروں کو بھی مسلسل تین سالہ تعیناتی کی بنیاد پر کشمیر کی شہریت دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں فی الوقت بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت ہے۔ بی جے پی کی اسمبلی میں 25 نشستیں ہیں جبکہ مفتی سعید کی 28۔
مفتی سعید کشمیر کے مسلم تشخص کے بقا کی باتیں کرتے رہے ہیں اور انھوں نے اکثریتی آبادی کو قائل کرنے کے لیے پارٹی کا پرچم بھی سبز رنگ کا ہی طے کیا۔ لیکن یکم مارچ کو انھوں نے بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔
مفتی سعید کے وزیرقانون بشارت بخاری کہتے ہیں: ’مجھے پورا یقین ہے کہ ہم یہ کیس جیت جائیں گے۔ ہم دفعہ 35A کا مکمل دفاع کریں گے۔ ابھی ایوان میں اس پر سیاست نہیں کی جا سکتی کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔‘
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مفتی سعید کی حکومت سپریم کورٹ میں تنہا ہوگی ، یا بی جے پی اس کا ساتھ دے گی۔







