کشمیر: ’قتل پر جرمانہ، بڈماز پر موت‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بڑے پالتوجانوروں کےگوشت یا بڈماز پر پابندی کا قانون ایک بار پھر کشمیر میں احتجاجی لہر کا باعث بن رہا ہے۔
83 سال پرانے اس قانون کے تحت گاوکشی کی سزا 10 سالہ قید ہے، لیکن تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ڈوگرہ بادشاہت کے دوران قتل کی سزا کے طور پر 16 روپےجرمانہ تھا جبکہ گاوکشی پر موت کی سزا دی جاتی تھی۔
بھارت کے انڈین پینل کوڈ کے برعکس کشمیر میں رن بیر پینل کوڈ کے تحت جرم و سزا کا نظام رائج ہے۔ کشمیر میں رائج رن بیر پینل کوڈ یا آر پی سی مذہبی جنون سے سرشار مہاراجہ رن بیرسنگھ کی ہی دین ہے۔
رن بیر سنگھ مہاراجہ گلاب سنگھ کے بیٹے اور ولی عہد تھے۔ گلاب سنگھ نے ہی 75 لاکھ نانک شاہی روپے اور کچھ عطیات کے عوض تاج برطانیہ سے کشمیر پر حاکمیت کی ضمانت حاصل کرلی تھی۔
فی الوقت آر پی سی کے سیکشن 298-A/B کو نافذ کرنے کا حکم عدالت نے دیا ہے اور اس پر وادی ایک بار پھر سیخ پا ہوگئی ہے۔ جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں اور بعض مقامات پر لوگ گائے یا بیل کو ذبح کرکے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
خیال رہے کہ یہ قانون تو آخری ڈوگرہ فرمانرروا ہری سنگھ کے دور میں بنا تھا، لیکن اُس سے پہلے بھی کشمیر میں گاوکشی پر پابندی تھی۔
پروفیسر میریدو رائے کے مطابق رن بیر سنگھ نے کشمیر کو باقاعدہ ’ہندو سٹیٹ‘ بنانے کے لیے آئینی اور قانونی تبدیلیاں کیں۔
صحافی اور محقق مقبول ساحل رن بیر سنگھ کے بیٹے پرتاپ سنگھ کے دور کے حوالے سے کہتے ہیں: ’اُس وقت اگر کوئی ہندو سپاہی کسی مسلمان کشمیری کو قتل کرتا تو اس کی سزا 16 روپے جرمانہ ہوتی تھی۔ اس میں سے 12 روپے سرکاری خزانے میں جاتے اور چار روپے مقتول کے لواحقین کو ملتے۔ لیکن اگر کوئی گائے کو ذبح کرتا تو اسے موت کی سزا سنائی جاتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1932 میں ہری سنگھ نے اسی قانون کو ذرا ’مہذب‘ بنایا۔ سیکشن 298-A/B کے تحت گائے، بیل یا بھینس ذبح کرنے والے کو 10 سال کی قید بامشقت اور نقد جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔ ان جانوروں کے گوشت کو کشمیر میں ’بڈماز کہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ 83 سال بعد کشمیر کی عدلیہ کو کیا سُوجھی کہ اس نے حکام کو یہ قانون سختی سے نافذ کرنے کا حکم سنایا؟ دراصل جموں میں ہندوقوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اہم کارکن پری موکش سیٹھ نے عدالت میں اس قانون کے نفاذ کی خاطر درخواست دی تو عدالت نے بڈماز پر پابندی نافذ کرنے کے لیے پولیس کو حکم دیا۔

،تصویر کا ذریعہ majid jahangir
اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ مسٹر سیٹھ حکومت کے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل ہیں۔ ایک اعلی آئینی عہدے پر فائز رہنے والا شخص نہ صرف یہ کہ ایک سیاسی کارکن ہیں بلکہ اس نے ایسا کام کیا ہے جس سے وادی کا امن و قانون بگڑ گیا ہے۔
وزیراعلی مفتی محمد سعید اور ان کے وزیرقانون بشارت بخاری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔ خیال رہے کشمیر میں پہلی مرتبہ ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی نے مفتی سعید کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کے اشتراک سے اقتدار حاصل کرلیا ہے۔
اس دوران کشمیر میں سنچیر کے روز عدالتی فیصلے کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے اور مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگر اور بیشتر قصبوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ جمعے کے روز سرینگر، پلوامہ، سوپور، بارہمولہ اور دوسرے قصبوں میں شدید مظاہرے کیے گئے۔ علیحدگی پسندوں اور مذہبی تنظیموں نے اس سلسلے میں لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔
ان گروپوں نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ 83 سال تک گردوغبار میں اٹے ایک فرقہ پرست قانون کو اچانک منظرپر لانے کے پیچھے ’مسلم کش عزائم‘ کار فرما ہیں۔ ظاہر ہے مسلح شورش کے دوران کشمیر کی مسلم شناخت مزید برملا ہوگئی، لیکن اُس سے قبل بھی 60 سال تک کسی بھی حکمران نے اس قانون کو منہ نہیں لگایا۔ جس ڈوگرہ بادشاہ کے ساتھ رن بیر پینل کوڈ منسوب ہے، اُس نے گاوکشی یا کسی بھی بڑے پالتوجانور کے ذبیحے پر مسلمانوں کا قافیہ تنگ کررکھا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
پروفیسر میری دورائے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’ہندو حاکم، مسلم محکومان‘ میں لکھا ہے: ’گلاب سنگھ نے رحم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاوکشی پر قلیل سزا رکھی تھی، لیکن جب رن بیر سنگھ نے اقتدار سنبھالا تو خود کو ایک ہندوحاکم ثابت کرنے کے لیے انھوں نے قطعیت کے ساتھ گاوکشی کے لیے موت کی سزا کا اعلان کردیا۔‘
ڈوگرہ مہاراجوں کے ظلم کی داستانیں رقم کرنے والے یورپی سیاح رابرٹ تھارپ کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ انھیں گرفتار کرکے حراست کے دوران قتل کیا گیا۔ ان کی قبر آج بھی لال چوک کے عیسائی قبرستان میں موجود ہے۔
سنہ 1947 میں جب ڈوگرہ شاہی کا صد سالہ دور ختم ہوگیا تو پہلے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور اُس وقت کے مقبول کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ نے اعلان کیا کہ ’شخصی راج اور اس کے آثار کا سورج غروب ہوچکا ہے۔ اب جمہوریت ، مذہبی آزادی اور رواداری کا دور ہے۔‘ اکثر حلقے سوال کرتے ہیں: ’سب کچھ ختم ہوچکا ہے تو پھر اچانک ڈوگرہ مہاراجوں کے فرسودہ قوانین کے اطلاق پر حکومت اتنی کوشاں کیوں ہے؟‘







