کشمیر: تصادم میں دو بھارتی فوجی اور دو عسکریت پسند ہلاک

کشمیر کے شمالی اور جنوبی اضلاع میں مسلح شدت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین تصادموں میں اضافہ ہورہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکشمیر کے شمالی اور جنوبی اضلاع میں مسلح شدت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین تصادموں میں اضافہ ہورہا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ میں فوج اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان جمعرات سے جاری تصادم میں اب تک دو فوجی اہلکار اور دو عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

سرینگر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان کرنل این این جوشی نے بی بی سی کو بتایا کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملتے ہی فوج نے راج وار جنگلات کا محاصرہ کر لیا تھا لیکن اس دوران وہاں چھپے عسکریت پسندوں نے فوج پر فائرنگ کی جس میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔

کرنل جوشی نے بتایا کہ رات گئے عسکریت پسندوں کے ساتھ دوبارہ تصادم شروع ہوا جس میں دو عسکریت پسند مارے گئے تاہم آپریشن ابھی جاری ہے۔

راج وار علاقہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ایک جنگلاتی علاقہ ہے۔ واضح رہے قریبی ویل گام علاقے میں گذشتہ ہفتے بھی ایک تصادم میں چار عسکریت پسند اور ایک بھارتی فوجی مارا گیا تھا۔

کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح ایک ایسے وقت بڑھ رہی ہے جب بھارت اور پاکستانی کے عسکری ادارے سرحدوں پر تناؤ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ مذاکرات کا تازہ دور جمعرات کو دہلی میں دونوں ملکوں میں ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹرز کے درمیان ہوا۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے شمالی اور جنوبی اضلاع میں مسلح شدت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین تصادم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پولیس کے مطابق جولائی سے اب تک صرف جنوبی کشمیر میں سات ایسی جھڑپیں ہوئیں جن میں پولیس، نیم فوجی سی آر پی ایف اور فوج نے مشترکہ آپریشن کیے۔ ان آپریشنوں میں سات مقامی شدت پسند مارے گئے جبکہ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ طویل محاصروں کے بعد مسلح مزاحمت کار فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق جنوبی کشمیر میں اس وقت کل 60 شدت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 30 نے اسی سال مسلح مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق جنوبی کشمیر میں اس وقت کل 60 شدت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 30 نے اسی سال مسلح مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے

پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی کشمیر میں اس وقت کل 60 شدت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 30 نے اسی سال مسلح مزاحمت کا راستہ اپنایا۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ اور شوپیاں میں اس طرح کے واقعات اب آئے روز ہوتے ہیں۔

دریں اثنا سرینگر اور دوسرے حساس شہروں میں جمعے کے روز پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

یہ سخت سکیورٹی انتظامات عوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔ خیال رہے کشمیر کی عدالت نے گائے، بیل یا بھینس کے گوشت پر پابندی کا حکم جاری کیا ہے جس کے خلاف علیحدگی پسندوں نے جمعے کے روز مظاہروں اور سنیچر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے خلاف دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے اپنی نگرانی میں جمعرات کو ہی گائے ذبح کر کے اس فیصلے کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

اس حوالے سے مزاحمتی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کشمیر کی تمام مذہبی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس 12 ستمبر کو ہو رہا ہے جبکہ پولیس نے علیحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار یا گھروں میں نظربند کر دیا ہے۔