کشمیر میں جھڑپ، ایک بھارتی فوجی ہلاک

 پولیس کے مطابق ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران 60 سے زائد مسلح عسکریت مختلف جھڑپوں میں مارے گئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن پولیس کے مطابق ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران 60 سے زائد مسلح عسکریت مختلف جھڑپوں میں مارے گئے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ کے دوران ایک مقامی عسکریت پسند اور ایک فوجی اہلکار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملتے ہی سوپور کے لاڈورہ گاوں کا محاصرہ کیا گیا، تو وہاں ایک رہائشی میں مکان میں چھپے عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی۔

اس جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔ سوپور کے اعلیٰ پولیس افسر عبدالقیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں حزب المجاہدین سے وابستہ عسکریت پسند ریاض احمد مارا گیا۔

پولیس کو سوپور میں ریاض کے علاوہ امتیاز کوندو کی بھی تلاش تھی۔ امتیاز کے سر پر دس لاکھ روپے کا انعام ہے۔

پولیس کو شبہ تھا کہ مکان میں امتیاز کوندو اور قیوم نجار نامی عسکریت پسند بھی مقیم ہیں، لیکن بعد میں عبدالقیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں صرف ایک عسکریت پسند موجود تھا۔

سوپور میں چند ماہ قبل لشکر اسلام نام کا گروپ سامنے آیا جسکے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی عام شہریوں کے قتل میں ملوث ہے۔

قیوم نجار اور امتیاز کوندو لشکر اسلام کے ہی اعلیٰ کمانڈر ہیں۔ماضی میں یہ سبھی حزب المجاہدین سے ہی وابستہ تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس مکان میں ریاض چھپا تھا اسے فوج نے بارود سے اُڑا دیا۔

قابل ذکر ہے رواں برس کے آغاز سے ہی کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں اضافہ ہو رہاہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران 60 سے زائد مسلح عسکریت مختلف جھڑپوں میں مارے گئے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت دو سو مسلح عسکریت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 80 پاکستانی ہیں۔

حکام کے مطابق اس سال کم از کم 45نوجوان مسلح گروپوں میں شامل ہوگئے اور ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی قیادت 21 سالہ برہان وانی کر رہے ہیں۔