بھارت میں دلت طالب علم کی خودکشی پر احتجاجی مظاہرے

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم کی موت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے بعد یونیورسٹی کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
پی ایچ ڈی کے طالب علم روہت ویمیولا نے اتوار کو یونیورسٹی کے کیمپس میں خودکشی کر لی تھی۔
روہت کے دوستوں نے یونیورسٹی کی اعلیٰ انتطامیہ اور ایک وفاقی وزیر بندارو دتاتریہ کو اپنے دوست کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
روہت ان پانچ دلت طالب علموں میں شامل تھے جو انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کی رہائشی سہولت واپس لینے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
روہت کے دوست چاہتے ہیں کہ اس واقعے پر یونیورسٹی کی حکام اور وفاقی وزیر اور بی جے پی کے رکن بندارو دتاتریہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔
وفاقی وزیر پر الزام ہے کہ انھوں نے دلت طالب علموں کے خلاف کارروائی کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا تھا۔

،تصویر کا ذریعہROHITH VEMULA FACEBOOK PAGE
ممبئی اور دہلی میں بھی طالب علم اس واقعے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
حیدر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ روہت ویمیولا کی موت سے یونیورسٹی کے بعض حکام اور وفاقی وزیر کے ممکنہ تعلق کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے حقائق جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم یونیورسٹی بھیجی ہے۔
کانگریس اور دلتوں کی نمائندہ جماعت بھوجن سماج پارٹی سمیت متعدد سیاسی جماعتوں نے اپنے نمائندے یونیورسٹی بھیجے ہیں۔ سابق حکمراں جماعت کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی بھی حیدر آباد گئے ہیں اور وہاں احتجاج کرنے والے طالب علموں سے ملاقات کی ہے۔
گذشتہ برس روہت ویمیولا اور چار دیگر طالب علموں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ ونگ ’اے بی وی پی‘ کے ایک رکن پر حملے کے الزامات لگائے گئے تھے۔
روہت ویمیولا کی موت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی بندارو دتاتریہ کی جانب سے وفاقی وزارتِ انسانی وسائل اور ترقی کو ایک خط کے ذریعے مبینہ واقعے کے بارے میں بتایا تھا اور اس کے بعد طالب علموں کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔
بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق یونیورسٹی نے ابتدائی تحقیقات میں بے قصور قرار دے دیا تھا تاہم دسمبر میں اپنے فیصلے کو تبدیل کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہROHITH VEMULA FACEBOOK PAGE
اطلاعات کے مطابق پانچ دلت طالب علموں کو بعدازاں یونیورسٹی کی رہائش گاہ اور دیگر سہولیات استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔
مظاہرین کے مطابق روہت اس پر بہت افسردہ تھے کیونکہ یہ طالب علم بی جے پی کے سٹوڈنٹ ونگ کی پالیسی کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔
تاہم وفاقی وزیر بندارو دتاتریہ کے مطابق انھوں نے دلت طالب علموں کے بارے میں خط نہیں لکھا تھا۔
بندارو دتاتریہ کے مطابق چند سماج دشمن عناصر یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو خراب کر رہے تھے اور میں نے وزارتِ کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے لکھا۔
انھوں نے کہا کہ خودکشی کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں اور تحقیقاتی رپورٹ میں سچ سامنے آ جائے گا۔
خیال رہے کہ بھارت میں ذات پات کے نام پر امیتازی سلوک ایک عام بات ہے۔ دلت جنہیں پہلے ’اچھوت‘ کہا جاتا تھا آج بھی ذات کے اعتبار سے تفریق کا نشانہ بنتے ہیں۔







