بھارت: کس برانڈ کا جہاد

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, اینڈریو نارتھ
- عہدہ, نامہ نگار جنوبی ایشیا
دکھائی دیتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے جانشین عالمی جہاد کے بڑے بڑے ناموں سے مقابلہ کرنے جا رہے ہیں اور اپنی توجہ خاص طور پر ان علاقوں اور آبادیوں کی جانب مبذول کر رہے ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے زیر اثر ہوتے جا رہے ہیں۔
اگرچہ بھارت کی مسلمان آبادی اٹھارہ کروڑ کے لگ بھگ ہے لیکن ماضی میں القاعدہ کو یہاں سے جہادی بھرتی کرنے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ القاعدہ نے کھبی بھارت کی بہت بڑی ہندو آبادی کے خلاف نیا محاذ کھولنے کے خوف سے یہاں سے کسی مسلمان کو بھرتی کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔
لیکن عراق میں دولتِ اسلامیہ کی چکا چوند کرنے والی کامیابوں پر عالمی ضمیر کے جاگنے سے پہلے ہی القاعدہ اور خاص پر ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی جد وجہد شروع کر دی تھی۔
اس عرصے میں ایمن الظواہری نے کھبی ویڈیو پیغام جاری کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جس کی وجہ یقیناً یہی تھی کہ کہیں امریکی ان کے ساتھ بھی وہی نہ کریں جو وہ اسامہ بن لادن کے ساتھ کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن لگتا ہے اب القاعدہ پر دباؤ بہت بڑھ گیا کہ اگر اس نے اب بھی کچھ نہ کیا تو دولتِ اسلامیہ اس سے پاکستان افغانستان سرحد کے وہ ملحقہ علاقے چھین لےگا جو روایتی طور پر القاعدہ کا مضبوط گڑھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں مقیم کئی ایسے جہادی گروہ حالیہ عرصے میں دولتِ اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں جو اس سے پہلے القاعدہ کے اتحادی ہُوا کرتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی سے حمایت اور نئے جہادیوں کی بھرتی کی غرض سے دولت اسلامیہ نے پشاور جیسے سرحدی علاقوں میں مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان کے ان سرحدی علاقوں میں جہاں افغان مہاجرین کی اکثریت ہے، وہاں ’دولتِ اسلامی‘ کے عنوان سے کتابچے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور کی مختلف عمارتوں پر دولتِ اسلامیہ کے حق میں کھلے نعروں کے علاوہ کئی مقامات پر حال ہی میں کی جانے والی چاکِنگ بھی دولت اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
اگرچہ ایمن الظواہری کے اعلان کا بنیادی ہدف بھارتی مسلمان ہی دکھائی دیتے ہیں، تاہم انھوں نے عاصم عمر نامی جس شخص کو القاعدہ کی جنوب ایشیائی شاخ کا سربراہ مقرر کیا ہے، ان کے بارے اطلاعات یہی ہیں وہ پاکستان میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ کچھ عرصے سے بھارت کی چند ریاستوں سے بھی دولتِ اسلامیہ کی بھرتی مہم کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں اور لگتا ہے جہاں القاعدہ کو ماضی میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، وہاں دولتِ اسلامیہ کسی قدر راستہ بنانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ مثلاً اس سال مئی میں ممبئی کے نواح سے چار مسلمان نوجوانوں کے عراق جا کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کی خبریں آئی تھیں۔ ان نوجوانوں کو انٹرنیٹ پر بھرتی کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس خبر نے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور مبصرین نے اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ بھارت کو بھی کل اسی خطرے کا سامنا ہوگا جو مغرب اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کو درپیش ہے کہ جب یہ جہادی شام اور عراق سے لوٹیں گے تو اپنے ملکوں میں بھی ’تباہی‘ پھیلائیں گے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین کی وہ تصاویر منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔
لیکن بھارت میں دولت اسلامیہ کے خلاف خاصا شدید رد عمل بھی دیکھنے میں آیا ہے اور نتیجتاً ہزاروں کی تعداد میں شیعہ مسلمانوں نے بھی عراق جا کر شیعہ مزاروں کو دولتِ اسلامیہ کے حملوں سے بچانے کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ بھارتی رضاکار فوجیوں کی کوئی کھیپ عراق جا سکےگی کیونکہ بھارتی حکومت نے سرکاری منظوری کے بغیر کسی بھی شہری کے عراق جانے پر پابندی لگا دی ہے۔
ابھی تک وزیِر اعظم نریندر مودی نے الظواہری کے ویڈیو پیغام پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے، لیکن لگتا یہی کہ وزیرِاعظم اس سلسلے میں ایک دور رس بیان ضرور دیں گے جس سے جنوبی ایشیا میں اس نئی جہادی جدوجہد کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔
لیکن نئی جہادی مہم میں بھارت کے لیے کئی خطرات پوشیدہ ہیں کیونکہ بھارت مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ سے جہادیوں کی بھرتی کے لیے زرخیز زمین ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلمان بھارت کے غریب ترین طبقوں میں سے ہیں اور انہیں ملازمت اور رہائش کے معاملوں میں اکثر غیر مساویانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سنہ 2002 کے گجرات ہنگاموں اور ہلاکتوں کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کی نظر میں نریندر مودی بذات خود ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ دوسری جانب انتہا پسند ہندو رہنما اور تنظیمیں بھی مسلمانوں کو ملک کے لیے خطرہ قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اگرچہ بھارت میں کئی حملے ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری مقامی مسلمان انتہا پسندوں نے قبول کی تھی لیکن ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان انتہاپسندوں کو جتنی حمایت بھارت کے اندر سے حاصل تھی اتنی پاکستان سے بھی مِل رہی تھی۔
قطع نظر سنہ 1947 کے خون خرابے کے، زیادہ تر بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ پہلے بھارتی ہیں اور بعد میں مسلمان، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں بھارت کے سیکولر وعدوں پر بھروسہ ہے، لیکن اب جبکہ دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ کو بھارت لا رہے ہیں تو لگتا یہی ہے کہ بھارت کے سکیولرزم کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔







