ساتھ کھانا کھانے پر’دلت کی ناک کاٹ دی‘

،تصویر کا ذریعہAARJU ALAM
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 450 کلومیٹر دور ریاست اترپردیش کے ضلع جالون میں ایک دلت کی ناک کاٹنے کی مبینہ کوشش کی گئی۔
مادھوگڑھ بلاک کے سرپتپورا گاؤں کے رہنے والے نچلی ذات کے امر سنگھ دوہرے کا الزام ہے کہ اونچی ذات کے کچھ بااثر افراد نے ان کی ناک کاٹنے کی کوشش کی۔
امر سنگھ دوہرے کے مطابق ان کی ’غلطی‘ یہ تھی کہ انھوں نے گاؤں کی ایک شادی میں اونچی ذات والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا تھا۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دلتوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے مگر تمام معاملات کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جا سکی ہے۔
دوہرے کا کہنا ہے کہ ان کی پچھلی تین نسلیں سنجے سنگھ کے یہاں خدمت کرتی آ رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ سنجے سنگھ کے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے اناؤ گئے تھے۔
’پولیس کی ٹال مٹول‘

،تصویر کا ذریعہAP
دوہرے کا کہنا تھا کہ بارات سے واپس آنے کے بعد گاؤں کے کچھ اونچی ذات کے لوگوں نے ان سے مار پیٹ کی اور ان کی ناک کاٹنے کی کوشش کی۔
دوہرے کا الزام ہے کہ اس کی شکایت لے کر جب وہ مادھوگڑھ تھانے گئے تو پولیس نے ٹال مٹول کا رویہ اپنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنجے سنگھ کے خاندان کی ایک خاتون نیرج سنگھ سماج وادی پارٹی کی جالون ضلع کی رکن ہیں۔ ان کے دباؤ پر پولیس نے واردات کے اگلے دن کیس درج کیا۔
معاملے میں تین افراد کو ملزم بنایا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
ملزم بےخوف گھوم رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAARJU ALAM
بی بی سی نے ملزمان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ان کے گھر کوئی موجود نہیں تھا اور اردگرد کے لوگ بھی بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔
سرپتپورا گاؤں کے سربراہ چھوٹےلال خود اونچی ذات سے ہیں لیکن انھوں نے بھی اس معاملے میں براہ راست کچھ کہنے سے بچنے کی کوشش کی۔
وہ کہتے ہیں کہ’ہمیں تو کوئی پوچھتا نہیں ہے۔ میں تو نام محض کا پردھان ہوں۔ اس معاملے میں بھی کوئی میرے پاس نہیں آیا۔‘
مادھوگڑھ پولیس کے سرکل افسر منوج گپتا نے کہا کہ ’ناک کاٹی نہیں گئی ہے، ناک پر چوٹ لگی ہے۔ یہ آپس میں مار پیٹ کا معاملہ ہے۔ ملزمان کو گرفتار کر کے جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘
دوسری جانب امر سنگھ دوہرے اور ان کے خاندان کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ پولیس کا سلوک دیکھ ان کی فکر بڑھتی جا رہی ہے.







