بھارتی ریاست ہریانہ: اجتماعی ریپ میں تین گنا اضافہ

- مصنف, دیویا آریا
- عہدہ, بی بی سی ہندی، بدایوں
گذشتہ دہائی کے دوران بھارتی دارالحکومت دہلی سے متصل ریاست ہریانہ میں دلت نامی پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت کے نیشنل کرائم بیورو کے مطابق سنہ 2002 سے 2012 کے درمیان یہ تعداد تقریباً تین گنا ہو گئی ہے۔
خواتین کے ایک رضاکار نیٹ ورک ڈبلیو ایس ایس کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایسے بیشتر معاملات میں نابالغ لڑکیاں ہی نشانہ بن رہی ہیں۔
ہریانہ میں اجتماعی ریپ کا شکار ایک دلت لڑکی انیسہ کہتی ہیں کہ ’جاٹ لڑکے ہمیشہ تاک میں رہتے تھے اور دن ہو یا رات، ان کے اور ان کی سہیلیوں کے لیے گھر سے نکلنا خطرے سے پر تھا۔‘
انيسہ کہتی ہیں کہ ’اونچی ذات کی لڑکیوں کو تو صرف شام کے وقت خوف ہوتا ہوگا لیکن وہ تو ہر پل دہشت زدہ رہتی ہیں۔‘
ان کے مطابق کبھی لڑکے ٹولیوں میں آتے ہیں اور ذات کے حوالے سے پھبتیاں کستے ہیں تو کبھی دوستی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے۔ کبھی انيسہ جواب دیتیں کبھی تڑپ کر تھپڑ تک مار دیتیں۔
لڑکے اکثر انيسہ کو کہتے کہ ’تم کیوں پڑھ رہی ہو، تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکوگی۔‘

ایک دن جب وہ اپنی نانی کے گھر جانے کے لیے نكلي تو جاٹ برادری کے آٹھ لڑکوں نے انھیں اغوا کر لیا اور اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا۔ اس وقت وہ 16 سال کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک لڑکے نے موبائل پر اس کی ویڈیو بنا کر لوگوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔ جب انيسہ کے والد نے ویڈیو دیکھی تو انھوں نے خودکشی کر لی۔
اس دن انيسہ کی بارھویں کلاس کا امتحان تھا۔
انھوں نے کہا: ’جب ایسا حادثہ ہوتا ہے تو کوئی ساتھ آئے یا نہ آئے خود ہی ہمت کرنی پڑتی ہے، میں نے اس دن امتحان دیا اور آج تک لڑ رہی ہوں۔‘
پھر ان کے بھائی کے خلاف جھوٹی شکایات درج کرائی جانے لگیں، کیس واپس لینے کے لیے دباؤ بنایا گیا، گاؤں والوں سے طعنے سننے پڑے لیکن انيسہ نے اپنی تعلیم مکمکل کی۔
انيسہ بتاتی ہیں کہ ’ڈر اور شرم کی وجہ سے گاؤں چھوٹ گیا۔‘
دلت ذات کو درپیش مسائل پر کام کرنے والوں کی مدد سے پولیس نے معاملہ درج کیا اور کیس فاسٹ ٹریک عدالت میں چلایا گیا۔ آٹھ میں سے چار لڑکوں کو سزا ہوئی اور چار بری ہو گئے۔
لیکن جنھیں سزا ہوئی انھوں نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی اور اب ضمانت پر رہا ہیں۔ انيسہ کا الزام ہے کہ آج بھی جب وہ کالج جاتی ہے، تو وہ ان کا پیچھا کرتے ہیں۔

انيسہ کی ہمت اور سماجی رضا کاروں کے دباؤ کے بعد حکومت نے ان کی ماں کو نوکری اور انھیں سکیورٹی دی ہے۔ اب انیسہ نے بری کیے جانے والے چار لڑکوں کے خلاف بھی ہائی کورٹ میں عرضی ڈال دی ہے۔
انیسہ اب ریپ کا شکار دوسری لڑکیوں کی کاؤنسلنگ اور حوصلہ افزائی کا کام کرتی ہے۔
جب ہم وہاں سے20 کلومیٹر دور ایک دوسرے گاؤں میں رہنے والی راکھی سے ملنے گئے تو انيسہ نے ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بات کرنے کی ہمت دی۔
راکھی کے کیس میں کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ رونما ہونے والے واقعے کو دو سال ہونے والے ہیں۔
راکھی نے کہا: ’میں سکول سے کھانا کھانے گھر آئی تھی کہ چار لڑکے آئے، میری ذات کو گالی دی اور کہا، آج تمہیں تمہاری اوقات بتاتے ہیں اور پھر اجتماعی زیادتی کی۔‘
اس کے بعد راکھی نے سکول جانا چھوڑ دیا اور خود کو گھر میں بند کر لیا۔ ماں تو بچپن میں ہی چل بسی تھیں اور والد کو کچھ بھی بتانے کی ہمت نہیں تھی۔
جب چھ دن بعد پولس میں شکایت کی گئی تو میڈیکل رپورٹ میں ریپ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایف آئی آر میں صرف دھمکی دینے، چوٹ پہنچانے اور زبردستی گھر میں گھسنے کا معاملہ درج ہوا۔

ایک ماہ کی جیل کے بعد ملزم باہر ہیں اور راکھی گھر کے اندر۔
بڑے جوش سے اپنی کاپی کتابیں دکھاتی ہے اور پھر نظریں نیچی کر کہتی ہے: ’میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں لیکن میرا خواب اب کبھی پورا نہیں ہوگا، جب تک وہ لڑکے کھلے گھوم رہے ہیں، میں سکول جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔‘
راکھی کے وكيل رجت كلسان نے اب عدالت میں ریپ کی دفعہ اور درج فہرست ذات اور قبائل کے خلاف ظلم مخالف قانون کی دفعات لگائے جانے کی عرضی داخل کی ہے۔
رجت تسلیم کرتے ہیں کہ دلت لڑکیوں کو ’سافٹ ٹارگٹ‘ سمجھا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’اونچی ذات کے لڑکوں کو پتہ ہے کہ لڑکی کا خاندان بہت کم معاملات میں شکایت کرنے کی ہمت کرتا ہے اور اگر شکایت ہوتی ہے تو بھی ان کا اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کرکے یا پیسے دے کر انھیں چپ کرایا جا سکتا ہے۔‘
رجت بتاتے ہیں کہ ریپ کے واقعات اکثر اجتماعی ہوتے ہیں: ’کئی بار تو ان لڑکیوں کو دوستی کے بہانے پہلے ایک لڑکا اور پھر اس کا پوراگروپ اس سے جسمانی تعلق بنانے کی کوشش کرتا ہے۔‘

عورتوں کے خلاف جنسی تشدد اور دباؤ کے خلاف عورتوں کی تنظیم ڈبلیو ایس ایس کی رپورٹ میں انيسہ اور راکھی سمیت کئی لڑکیوں سے ملاقات کر کے ان معاملات کی معلومات یکجا کی گئی ہیں۔
رپورٹ لکھنے والوں میں سے ایک رجنی تلک کہتی ہیں: ’دلت لڑکیوں اور خواتین کے خلاف تشدد طویل عرصے سے ہو رہا ہے لیکن گذشتہ سالوں میں جیسے جیسے وہ سماج کے دائروں کو توڑ کر گھر سے باہر نکل رہی ہیں انھیں واپس پیچھے لے جانے کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔‘
رپورٹ میں پولیس پر ’دلت‘ لڑکیوں کے ساتھ بے حس ہونے اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے استعمال میں جھجھكنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
انيسہ اور راکھی بھی کہتی ہیں کہ انھیں بار بار ایسا لگا ہے کہ پولیس اثر و رسوخ والے اونچی ذات کے ملزم لڑکوں کی طرفداری کرتی تھی۔ تاہم پولیس ہمیشہ ہی اس قسم کے تمام الزامات سے انکار کرتی آئی ہے۔







