ریپ کے نوجوان مجرموں کے لیے بالغوں جیسی سزا کی تجویز

بھارت میں 16 دسمبر سنہ 2012 کے ریپ کے واقعے کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین بنائے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں 16 دسمبر سنہ 2012 کے ریپ کے واقعے کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین بنائے گئے تھے

بھارت میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ریپ جیسے سنگین جرائم کے مرتکب نوجوانوں کو بالغ مجرم ہی گردانا جائے اور انھیں وہی سزا دی جائے جو اس جرم کے لیے بالغ مجرموں کو دی جاتی ہے۔

حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ حکومت کو جووینائل جسٹس ایکٹ یعنی نوعمر افراد سے متعلق قانون پر از سر نو غور کرنا چاہیے۔

مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے اعداد و شمار پیش کرتے کہا کہ زیادہ تر جنسی جرائم 16 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان کرتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اس معاملے میں نوعمروں کو بالغوں کے زمرے میں لانے سے جرم کم ہوں گے کیونکہ ان کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا ہوگا۔

مینکا گاندھی کے بیٹے اور بی جے پی کے رکن ورون گاندھی بھی اپنی ماں کے خیال سے متفق نظر آئے۔ انھوں نے لکھا: ’اگر مجرم اتنے بڑے ہیں کہ ریپ کر سکیں تو پھر وہ اتنے بڑے ضرور ہیں کہ ان پر بالغوں کی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جائے۔‘

کانگریس لیڈر شوبھا اوزا کا بھی یہی خیال ہے کہ جرم کی مناسبت ہی سے نوجوانوں کو سزا ملنی چاہیے۔

ریپ کے خلاف ملک گیر پیمانے پر مظاہر کیے گئے لیکن ریپ کے واقعات میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنریپ کے خلاف ملک گیر پیمانے پر مظاہر کیے گئے لیکن ریپ کے واقعات میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے

لیکن سابق وزیرِ قانون سلمان خورشید کا خیال قدرے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں جلد بازی میں فیصلہ کرنے کی بجائے حکومت کو اس مسئلے پر ماہرین کی رائے لینی چاہیے۔

انھوں نے کہا: ’یہ بے حد پیچیدہ معاملہ ہے۔ میں اپنے تمام ساتھیوں سے درخواست کروں گا کہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں، ماہرین کے ساتھ بیٹھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ فیصلے کی بنیاد ٹھوس ہو۔‘

دوسری جانب بھارتی پولیس سروس کے سینیئر افسر مکیش گپتا کا کہنا ہے کہ جب جووینائل جسٹس ایکٹ بنا تھا اس وقت حالات مختلف تھے لیکن اب معاشرہ بہت تبدیل ہو چکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جس طرح ووٹنگ کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کی گئی ہے، اسی طرح 16 سے 18 سال کی عمر والے نوعمر مجرموں کو قانونی طور پر بالغوں ہی کی طرح دیکھا جانا چاہیے۔‘

حال میں بدایوں میں دو بہنوں کے ریپ اور قتل کے معاملے نے اس بحث کو پھر سے تازہ کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحال میں بدایوں میں دو بہنوں کے ریپ اور قتل کے معاملے نے اس بحث کو پھر سے تازہ کر دیا ہے

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے وکیل اننت کمار ستھانا اس دلیل سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں قانون میں تبدیلی سے جرائم میں مزید اضافہ ہوگا۔

ستھانہ کہتے ہیں: ’فیصلے مصدقہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کرنے کی ضرورت ہے۔ جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔‘

کئی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ساتھ قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے بھی حکومت کے اس خیال کی مخالفت کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے ایسی تجویز حقوق اطفال کے خلاف جاتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 دہلی کی ایک بس میں میں ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد اس معاملے پر بہت بحث ہوئی تھی۔ اس واقعے پر ملک گیر پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود ریپ کے جرائم میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔