ریپ کے نوجوان مجرموں کے لیے بالغوں جیسی سزا کی تجویز

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ریپ جیسے سنگین جرائم کے مرتکب نوجوانوں کو بالغ مجرم ہی گردانا جائے اور انھیں وہی سزا دی جائے جو اس جرم کے لیے بالغ مجرموں کو دی جاتی ہے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ حکومت کو جووینائل جسٹس ایکٹ یعنی نوعمر افراد سے متعلق قانون پر از سر نو غور کرنا چاہیے۔
مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے اعداد و شمار پیش کرتے کہا کہ زیادہ تر جنسی جرائم 16 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان کرتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اس معاملے میں نوعمروں کو بالغوں کے زمرے میں لانے سے جرم کم ہوں گے کیونکہ ان کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا ہوگا۔
مینکا گاندھی کے بیٹے اور بی جے پی کے رکن ورون گاندھی بھی اپنی ماں کے خیال سے متفق نظر آئے۔ انھوں نے لکھا: ’اگر مجرم اتنے بڑے ہیں کہ ریپ کر سکیں تو پھر وہ اتنے بڑے ضرور ہیں کہ ان پر بالغوں کی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جائے۔‘
کانگریس لیڈر شوبھا اوزا کا بھی یہی خیال ہے کہ جرم کی مناسبت ہی سے نوجوانوں کو سزا ملنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لیکن سابق وزیرِ قانون سلمان خورشید کا خیال قدرے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں جلد بازی میں فیصلہ کرنے کی بجائے حکومت کو اس مسئلے پر ماہرین کی رائے لینی چاہیے۔
انھوں نے کہا: ’یہ بے حد پیچیدہ معاملہ ہے۔ میں اپنے تمام ساتھیوں سے درخواست کروں گا کہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں، ماہرین کے ساتھ بیٹھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ فیصلے کی بنیاد ٹھوس ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب بھارتی پولیس سروس کے سینیئر افسر مکیش گپتا کا کہنا ہے کہ جب جووینائل جسٹس ایکٹ بنا تھا اس وقت حالات مختلف تھے لیکن اب معاشرہ بہت تبدیل ہو چکا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جس طرح ووٹنگ کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کی گئی ہے، اسی طرح 16 سے 18 سال کی عمر والے نوعمر مجرموں کو قانونی طور پر بالغوں ہی کی طرح دیکھا جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے وکیل اننت کمار ستھانا اس دلیل سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں قانون میں تبدیلی سے جرائم میں مزید اضافہ ہوگا۔
ستھانہ کہتے ہیں: ’فیصلے مصدقہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کرنے کی ضرورت ہے۔ جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔‘
کئی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ساتھ قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے بھی حکومت کے اس خیال کی مخالفت کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے ایسی تجویز حقوق اطفال کے خلاف جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 دہلی کی ایک بس میں میں ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد اس معاملے پر بہت بحث ہوئی تھی۔ اس واقعے پر ملک گیر پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود ریپ کے جرائم میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔







