بدایوں ریپ: ’چچازاد بہنوں کی قبر کشائی کی جائے گی‘

بھارت کی ریاست اترپردیش میں میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ تازہ طبی جانچ کے لیے وہ ان دو چچا زاد بہنوں کی لاشیں نکالیں گے جنھیں مئی کے مہینے میں اجتماعی ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ دونوں بہنیں نچلی ذات کی تھیں اور انھیں اترپردیش کے بدایوں ضلعے میں ایک پیڑ سے لٹکا پایا گیا تھا جس پر پوری دنیا میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
ان میں سے ایک لڑکی کے والد نے الزام لگایا تھا کہ جب انھوں نے پولیس سے بیٹی کو تلاش کرنے کی بات کی تھی تو ان کا مذاق اڑایا گیا تھا۔
میڈیا میں بات سامنے آنے کے بعد تین مشتبہ حملہ آوروں اور دو پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
شروع میں اس مقدمے کی تحقیقات ریاستی پولیس کر رہی تھی لیکن بعد میں اس معاملے کو مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو سونپ دیا گيا۔
سی بی آئی کے ایک ترجمان کنچن پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیے سی بی آئی نے ایک میڈیکل پینل تشکیل دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر میڈیکل پینل کی لاشوں کو قبر سے نکالنے کی تجویز ہوگی تبھی ایسا کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے قبر کھود کر لاش نکالے جانے کے متعلق بھارتی میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی بی آئی نے جب سے یہ کیس اپنے ہاتھ میں لیا ہے انھوں ملزمان اور دونوں لڑکیوں کے والد کا جھوٹ جانچنے والا ٹیسٹ کیا ہے۔
یہاں واضح رہے کہ چونکہ لڑکیاں نچلی ذات سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے ان کو نذر آتش نہیں کیا گيا تھا بلکہ ان کو دفن کیا گيا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ذات کی خلیج بہت گہری ہے اور عام طور پر اونچی ذات والے نیچی ذات والوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
بدایوں کے كٹرہ شہادت گنج گاؤں میں 27 مئی کو دو چچا زاد بہنوں کی لاشیں درخت سے لٹکی ملی تھیں۔
بھارت میں سنہ 2012 میں دہلی میں ہونے والے گینگ ریپ اور قتل کے واقعے کے بعد جنسی تشدد کے خلاف کڑے اقدام کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اس کے متعلق قوانین میں بھی سختی لائی ہے۔







