دہرے ریپ اور قتل کے بعد ایک اور ریپ و قتل

مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین میں زیادہ تر عورتیں تھیں

اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں دو نابالغ لڑکیوں کے ریپ اور قتل کے واقعہ کے خلاف لوگوں نے ریاست کے وزیراعلی اکھیلیش یادو کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا ہے اور اسی دوران ریاست میں مزید ایک عورت کے ریپ اور قتل کی اطلاع ہے۔

بی جے پی کے کارکنوں نے لکھنؤ میں وزیر اعلی اکھلیش یادو کے دفتر کے سامنے زبردست احتجاج کیا اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔مظاہرین میں بڑی تعداد خواتین کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ریاست میں مزید ایک عورت کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کا ریپ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست کے بہیڑی علاقے میں ایک بائیس سالہ عورت کی لاش ملی ہے۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق اجتماعی ریپ کے بعد اس عورت کو گلا گھونٹ کر مارنے سے پہلے اسے تیزاب پینے پر مجبور کیا گیا تھا۔

اس درمیان، پیر کو بی جے پی کے ریاستی صدر لكشمي كانت واجپئی نے کہا ہے کہ پارٹی کے ریاستی یونٹ کا مطالبہ ہے کہ اتر پردیش میں قانون کی بدتر ہوتی صورتِ حال میں بہتری کے لیے مرکزی وزارت داخلہ مداخلت کرے۔

لكشمي كانت واجپئی نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف جرم سنگین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور اکھلیش کی سماج وادی پارٹی کی حکومت انھیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے زیادہ تر جرائم میں سماج وادی پارٹی کے کارکن شامل پائے گئے ہیں، اس لیے پولیس بھی اب ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔

واجپئی نے کہا، ’صورت حال انتہائی سنگین ہے اور جلدی ہی اس واقعہ پر تفصیلی رپورٹ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو بھیجی جائے گی‘۔

دوسری جانب مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان متاثرین کے اہل خانہ سے ملنے بدایوں پہنچے ہیں۔

مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبڑی تعداد میں لوگوں نے ریاست وزراعلی اکھلیش یادو کی رہائش گاہ کے بار مظاہرہ کیا

رام ولاس پاسوان نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے پر ان کے مطالبات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے رکھیں گے اور ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کو کابینہ میں بھی اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ کہیں ملائم سنگھ یادو کے بیان سے اترپردیش کے مجرموں کو شہ تو نہیں مل رہی؟

ملائم سنگھ یادو نے اپریل میں اپنی ایک انتخابی ریلی میں ریپ کے لیے موت کی سزا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکوں سے ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے مراد آباد کی ریلی میں کہا تھا، ’لڑکے، لڑکے ہیں، غلطی ہو جاتی ہے‘۔

پاسوان کا کہنا تھا کہ متاثرین کا خاندان ڈرا ہوا ہے انہوں نے گاؤں میں مستقل پولیس کیمپ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی کو یہاں آنا چاہیے۔

اس سے پہلے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی، ریاست کی سابق وزیر اعلی مایاوتی، بدایوں سے سماج وادی پارٹی کے ایم پی دھرمیندر یادو، سابق لوک سبھا سپیکر میرا کمار نے اتوار کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کی تھی۔