کمسن لڑکیوں کا قتل، دو پولیس اہلکار برطرف

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اترپردیش حکومت سے معاملے کی رپورٹ طلب کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اترپردیش حکومت سے معاملے کی رپورٹ طلب کی ہے

بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے شمالی ریاست اترپریش میں دو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ اجتماعی ریپ کے بعد درخت سے لٹکا کر قتل کرنے کے واقعے کی اترپردیش حکومت سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

جمعے کو ریاست کے ضلع بدایوں کے كٹرا گاؤں میں دو لڑکیوں کے قتل کے واقعے میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔

دو پولیس اہلکاروں کو لڑکیوں کی بازیابی میں مدد نہ کرنے اور اس سلسلے میں مجرمانہ سازش میں شریک ہونے کے الزام میں برطرف کیا گیا ہے۔

اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے اترپردیش میں صدر راج کا مطالبہ کیا ہے۔

مایاوتی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ریاست میں پھیلے ’جنگل راج‘ کا ثبوت ہے جبکہ حکومت قانون قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

یہ دونوں نابالغ لڑکیاں چچا زاد بہنیں تھی اور ان میں سے ایک کی عمر 14 اور دوسری کی 15 سال تھی۔ملزمان نے مبینہ طور پر ریپ کے بعد دونوں لڑکیوں کو آم کے درخت پر لٹکا دیا جس سے ان کی موت ہو گئی۔

مشتعل گاؤں والوں نے آٹھ گھنٹے کے بعد مناسب کارروائی کی یقین دہانی کے بعد پولیس کو درخت سے لڑکیوں کی لاشیں اتارنے دیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمشتعل گاؤں والوں نے آٹھ گھنٹے کے بعد مناسب کارروائی کی یقین دہانی کے بعد پولیس کو درخت سے لڑکیوں کی لاشیں اتارنے دیں

اس واقعہ سے مشتعل گاؤں والوں نے آٹھ گھنٹے کے بعد مناسب کارروائی کی یقین دہانی کے بعد پولیس کو درخت سے لڑکیوں کی لاشیں اتارنے دیں۔

مرکز میں نئی حکومت قیام کے چوتھے دن ہی اس واقعے سے پیدا ہونے والی غم و غصے اور اشتعال کے چیلنج کا سامنا کرتی نظر آ رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ حکمران سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے انتخابی مہم کے دوران عصمت دری کے لیے موت کی سزا کی فراہمی پر کہا تھا کہ لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے اس کے لیے انھیں کیا پھانسی پر لٹكائےگے؟

دسمبر 2012 میں دہلی میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کے واقعے کے بعد جنسی زیادتی سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی گئی تھی۔

دہلی میں اتر پردیش کی حکومت کے دفتر کے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں، طالب علم تنظیموں اور کئی دیگر سماجی تنظیموں نے جمعے کو مظاہرہ کیا۔ سماجی کارکنوں نے انتظامیہ اور حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنسی تشدد کے معاملات سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہی۔