افغان سیاستدان کےگھر پر خودکش حملہ، ’13 افراد ہلاک‘

اتوار کو جلال آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں 13 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناتوار کو جلال آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں 13 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں ایک معروف سیاستدان کےگھر پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے اس حملے میں 14 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ حملہ عبیداللہ شینواری کےگھر پر ہونے والے جرگے کے دوران ہوا ہے تاہم عبداللہ شینواری اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

چار ممالک کے امن مذاکرات سے قبل بدھ کو ایک حملہ ہوا تھا۔ امن مذاکرات کا مقصد جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ننگرہار صوبے کے گورنر نے ایک بیان میں کہا: ’شینواری کے گھر کو ایک خود کش بمبار نے نشانہ بنایا جس میں 13 افراد ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

شینواری ننگرہار صوبے کی معروف شخصیت ہیں اور صوبائی کونسل کے رکن ہیں جبکہ ان کا خاندان وہاں کی مقامی سیاست میں سرگرم ہے۔

سکیورٹی فورسز کے اہلکار خودکش حملے کی جگہ پہنچ گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز کے اہلکار خودکش حملے کی جگہ پہنچ گئے ہیں

خیال رہے کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ افغانستان میں ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔

گذشتہ ہفتے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے پاکستانی قونصل خانے کو نشانہ بناتے ہوئے چار گھنٹے تک افغان افواج سے فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا۔

اس حملے میں تین حملہ آوروں کے علاوہ افغان سکیورٹی کے سات اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور یہ افغانستان کے شہر اور پاکستانی حکومت کے ادارے پر دولت اسلامیہ کا پہلا بڑا حملہ تھا۔

مبصرین کے مطابق عراق اور شام کے بڑے علاقے پر قابض اس جنگجو تنظیم نے افغانستان میں بھی اپنے قدم جمانے شروع کردیے ہیں اور طالبان کو ان کی ہی سرزمین پر چیلنج کر رہے ہیں۔

دولت اسلامیہ نے طالبان کے منحرف جنگجوؤں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔