جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب جھڑپ، دس ہلاک
افغانستان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
افغان صوبے ننگرہار کے پولیس چیف فاضل احمد شیرزاد کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سات سکیورٹی اہلکار اور تین حملہ آور شامل ہیں۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کر کے پاکستانی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔
فاضل احمد شیرزاد نے بتایا کہ قونصل خانے کی عمارت پر حملے کے بعد حملہ آور احاطے کے قریب واقع ایک گھر میں محصور ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تین خود کش بمباروں نے حملہ کیا جن کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا اور وہ تینوں حملہ آور افغان سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین عام شہریوں سمیت سات دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

اس واقعے کے بعد صدر اشرف غنی نے نواز شریف کو فون کیا اور افغانستان میں موجود پاکستانی سفیروں کی سکیورٹی کو بڑھانے کا یقین دلایا ہے۔
وزیراِ عظم ہاؤس کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے افغان صدر کا شکریہ ادا کیا اور افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر تعزیت بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف نے کہا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں اور پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان قونصل خانہ بھارتی سفارتی مشن کے قریب واقع ہے جہاں گذشتہ ہفتے بھی ایک حملہ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اس سے قبل اسی طرح کے حملوں میں بھارتی مفادات کو دو بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک حملہ مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر ہوا تھا جبکہ دوسرے حملے میں بھارتی ریاست پنجاب میں شدت پسندوں نے پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئر بیس کو نشانہ بنایا تھا۔
خیال رہے کہ یہ حملہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں اسلام آباد میں ہونے والے چہار ملکی مذاکرات کے فورا بعد ہوا ہے۔
افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں کے درمیان پیر کو مذاکرات ہوئے۔







