بھارتی قونصل خانے کے قریب افغان فوج اور جنگجوؤں میں تصادم

،تصویر کا ذریعہepa
افغان فوج ملک کے شمالی شہر مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے کے قریب ایک عمارت سے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے بر سر پیکار ہے۔
پیر کو عمارت سے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
<link type="page"><caption> مزارِ شریف میں بھارتی قونصل خانے کے قریب فائرنگ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160103_indian_counslate_mazar_sharif_attack_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے قونصل خانے میں گھسنے کی ناکام کوشش کی تھی اور اب وہ پاس کی عمارت میں ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
خیال رہے کہ پہلے بھی افغانستان میں بھارتی قونصل خانے حملہ آوروں کے نشانے پر رہے ہیں۔
افغانستان میں بھارتی سفیر امر سنہا نے بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ قونصل خانے کے تمام اہلکار محفوظ ہیں اور اس علاقے کو حملہ آوروں سے خالی کرانے کی کارروائی جاری ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لیے ’بہت ہی احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلخ صوبے کے گورنر کے ترجمان منیر فرہاد نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمارا کلیرینس آپریشن قونصل خانے کے قریب جاری ہے۔‘
مزار شریف کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور آر پی جی، ہینڈ گرینیڈ اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
صوبائي پولیس کے ترجمان شیر جان درانی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مسلح حملہ آور عمارت سے افغان فوجیوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔
ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہb
خیال رہے کہ سنہ 2008 اور 2009 میں کابل سفارت خانے پر دو بار حملہ ہوا تھا جس میں درجنوں افراد مارے گغے تھے۔
مئی سنہ 2014 میں ہرات میں مسلح افراد نے بھارتی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا جبکہ اگست سنہ 2013 میں جلال آباد قونصل خانے پر حملے میں نو شہری ہلاک ہوئے تھے۔
مزار شریف میں ہونے والا تازہ حملہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کابل دورے کے بعد ہوا ہے۔







