چين میں انسانی حقوق کے علمبردار کی سزا متوقع

،تصویر کا ذریعہAP
بیجنگ میں ایک عدالت نے چین میں انسانی حقوق کے معروف ترین وکیل کو ان کے آن لائن دیے جانے والے بیان کے لیے قصور وار ٹھہراتے ہوئے معلق قید کی سزا سنائی ہے۔
پو جے چیانگ کو سماجی رابطے کی سائٹ پر بیان پوسٹ کرنے کے لیے نسلی’منافرت بھڑکانے، جھگڑنے اور مسائل پیدا کرنے‘ کا مجرم پایا گيا ہے۔
عدالت نے انھیں تین سال قید کی سزا سنائی ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ یہ سزا معطل کی جا سکتی ہے۔
پو جے چیانگ کی سماعت چین میں ’جاری کریک ڈاؤن‘ کا حصہ ہے جو حکومت اپنے مخالفین، وکیلوں اور بدعنوانی کے ملزمان کے خلاف کر رہی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا پو کو حراست سے فوراً رہا کیا جائے گا؟ نامہ نگاروں کا کہنا ہے اس سزا کا مطلب یہ ہے کہ معلق مدت تک ان کی نگرانی کی جائے گي اور ان کے اچھے برتاؤ کو دیکھتے ہوئے ان کی سزا ختم بھی کی جا سکتی ہے۔
گذشتہ ہفتے ان کے خلاف مقدمے کی سماعت ختم ہوئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں سنایا گيا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی ظلم و جبر کے مترادف ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ ہفتے 14 دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کے باہر جمع ہونے والے دوسرے ممالک کے صحافیوں، سفارتکاروں اور احتجاج کرنے والے چند چین کے باشندوں کے ساتھ ہاتھا پائی کی تھی۔
پو جے چیانگ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کی اہلیہ کو اس سماعت میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی اور یہ سماعت تقریبا تین گھنٹے جاری رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر پو جے چیانگ نے سماجی رابطے کی سائٹ ویئبو پر کئی پیغامات پوسٹ کیے تھے اور سنکیانگ خطے میں اوغر مسلمانوں کے خلاف ’انتہائی پر تشدد‘ کریک ڈاؤن پر سوالات اٹھائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی غیر قانونی پارٹی ہے اور ڈیایو/سینکاکو جزیرے کے متعلق حکومت کی مبالغہ آرائی کا مذاق اڑایا تھا۔ خیال رہے کہ اس جزیرے پر جاپان بھی اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے۔
مئی سنہ 2014 سے پو جے چیانگ حراست میں ہیں جب سے انھوں نے تیانامن سکوائر کریک ڈاؤن کی 25 ویں سالگرہ منانے کی کوشش کی تھی۔ اس سے قبل انھوں نے تیانامن میں ایک طالب علم کے طور پر شرکت کی تھی۔
ان کے اہل خانہ اور وکیل نے نمائندوں کو بتایا کہ ہر چند کہ ان کا وزن کم ہوا ہے اور ان کے بال سفیدی مائل ہیں تاہم ان صحت اچھی تھی اور ان کا دماغ حاضر تھا۔







