چین: وکیل کے خلاف مقدمے کی سماعت، عدالت کے باہر ہاتھا پائي

مسٹر پو مئی سنہ 2014 سے حراست میں ہیں جب سے انھوں نے تیانامن سکوائر کریکڈاؤن کی 25 ویں سالگرہ منانے کی کوشش کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمسٹر پو مئی سنہ 2014 سے حراست میں ہیں جب سے انھوں نے تیانامن سکوائر کریکڈاؤن کی 25 ویں سالگرہ منانے کی کوشش کی تھی

چین میں انسانی حقوق کے معروف ترین وکیل کو ہاتھا پائی کے درمیان دارالحکومت بیجنگ کی عدالت میں سماعت کے لیے لے جایا گيا ہے۔

انسانی حقوق کے علمبردار پو جے چیانگ پر نسلی’منافرت بھڑکانے، جھگڑنے اور مسائل پیدا کرنے‘ کے الزامات ہیں۔

دوسرے ممالک کے صحافیوں، سفارتکاروں اور احتجاج کرنے والے چند چین کے باشندوں کو عدالت کے باہر سکیورٹی افسروں نے دھکے دیے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔

پو جے چیانگ کی عدالت میں پیشی چین میں ’جاری کریک ڈاؤن‘ کا حصہ ہے جو حکومت اپنے مخالفین، وکیلوں اور بدعنوانی کے ملزمان کے خلاف کر رہی ہے۔

مسٹر پو جے چیانگ نے سوشل میڈیا پر حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کا مذاق اڑایا تھا اور سنکیانگ کی اقلیتی برادری مسلمانوں اور تبت کے بارے میں سوالات کیے تھے۔

مئی سنہ 2014 سے پو چیانگ حراست میں ہیں جب سے انھوں نے تیانامن سکوائر کریک ڈاؤن کی 25 ویں سالگرہ منانے کی کوشش کی تھی۔ اس سے قبل انھوں نے تیانامن میں ایک طالب علم کے طور پر شرکت کی تھی۔

صحافیوں اور سفارتکاروں کے ساتھ عدالت کے باہر ناروا سلوک کیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنصحافیوں اور سفارتکاروں کے ساتھ عدالت کے باہر ناروا سلوک کیا گيا ہے

بی بی سی کے جون سڈورتھ جو کہ عدالت کے باہر ہیں ان کا کہنا ہے کہ عدالت پر حکومت کی جو سخت گرفت ہے اس صورت میں ان کے بری ہونے کا کوئي امکان نہیں ہے اور مسٹر پو کو قید کی طویل سزا سنائی جا سکتی ہے۔

عدالت کے باہر ایک امریکی سفارتکار نے ایک بیان پڑھ کے سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ’وکلا اور عوام کے رہنماؤں کو چین میں جاری ظلم و استبداد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے‘ اور حکومت سے ملک کے آئين میں دیے جانے والے حقوق کی پاسداری کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تاہم یورپی یونین کے ایک سفارتکار کو بیان دینے سے روک دیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ اجتماع اور اظہار خیال کی آزادی کے متعلق سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے جس کی چین کے آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔

کئی ممالک کے سفارتکار وہاں جمع ہیں تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے شاید ہی کسی کو عدالت کے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپس نے مسٹر پو کے معاملے کو ’سیاسی جور و ستم‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔