’منگولیا میں حملہ سرحدی تنازع پر کیا گیا‘: چینی پولیس

چینی حکام کا کہنا ہے کہ اندرونی منگولیا کے صوبے میں قائم ایک دور دراز کی چوکی پر اتوار کو ہونے والا حملہ ایک ’صوبائی سرحدی جھگڑے‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
جس متنازعہ علاقے میں یہ چوکی قائم تھی اس کے دو دعویدار ہیں، اندرونی منگولیا اور اس کے ہمسائے صوبے ’گانسو‘ کے باشندے۔
اتوار کو ہونے والے حملے میں کم از کم 100 نقاب پوش حملہ آوروں نے چوکی کے ارد گرد عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور پھر ان میں موجود عملے کو مار پیٹ کر فرار ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے نامعلوم مشتبہ افراد کی شناخت کر لی ہے۔
اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ’ایجن بینر‘ کے علاقے میں صبح کو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا جس میں کم از کم 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔
متاثرین میں سے دو افراد چوکی کے عملے میں شامل تھے اور باقی تمام افراد ’سرحد کا دفاع کرنے والے کاشتکار اور چرواہے‘ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملہ آوروں کے پاس لاٹھیاں اور کالی مرچوں کے سپریز تھے۔
انھوں نے چوکیوں پر موجود عملے کو مبینہ طور پر مارا پیٹا، ان کی قیمتی اشیاء لوٹیں اور پھر منفی 20 درجے سینٹی گریڈ کے موسم میں ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں کھلے آسمان تلے چھوڑ کر چلے گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس کے بعد حملہ آوروں نے دو فورک لفٹر ٹرکوں کے ذریعے چوکی پر قائم عمارتوں اور گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔
خبر رساں ادارے ’ژنوا‘ نے مقامی پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج میں معلوم ہوا ہے کہ یہ جھگڑا ایجن بینر اور گانسو صوبے کے علاقے ’جنتا‘ کے درمیان ایک ’صوبائی سرحدی تنازع‘ کی وجہ سے پیش آیا تھا۔
مقامی پولیس اہلکار لی یانبو نے صحافیوں کو بتایا کہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ہونے والی صوبائی سرحدوں کی مسلسل تبدیلیوں کی وجہ متعلقہ علاقہ بہت دیر سے مقامی باشندوں کے درمیان تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔
رواں سال ستمبر میں بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں نقاب پوش افراد نے اسی چوکی پر آکر موجود عملے کو ڈرایا دھمکایا لیکن علاقے کو چھوڑنے پر قائل ہونے پر وہ چلے گئے تھے۔
ماضی میں بھی یہ علاقہ نسلی اقلیتی منگولیائی اور ہان چینی لوگوں کے درمیان جھگڑوں کی وجہ بنا ہے۔







