بیجنگ میں دھند اور گرد و غبار پر دوبارہ ’ریڈ الرٹ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکام نے ایک بار پھر سے فضائی آلودگی بڑھ جانے کے سبب ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا ہے جس کے تحت گاڑیوں کی آمد و رفت اور تعمیراتی کام روک دیے جاتے ہیں۔
حکومت نے تقریباً ایک ہفتے پہلے بھی فضا میں زبردست دھند چھانے کے بعد پہلی بار اس طرح کا حکم صادر کیا تھا۔
بیجنگ میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں سنیچر سے منگل تک گہری دھند اور اور گرد و غبار کے چھائے رہنے کا امکان ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس فضائی آلودگی سے مرکزی چین کے زیان علاقے سے شمال مشرقی ہربن تک کا علاقہ متاثر ہو سکتا ہے۔
درجہ بندی کی مناسبت سے آلودگی سے متعلق ریڈ الرٹ بلند ترین سطح ہے اور اسے پہلی بار آٹھ دسمبر کو لاگو کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خیال رہے کہ کوئلے سے چلنے والی کارخانوں اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والے گردغبار سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ حبس اور ہواؤں کی بندش سے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
اس سے قبل ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کے کارکنان نے چینی حکومت سے ریڈ الرٹ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
دسمبر 2013 میں ایک اور چینی شہر ننجیانگ میں بھی ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا اور 30 نومبر کو بیجنگ میں ’اورنج الرٹ‘ جاری کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکام کاربن کے اخراج کو روکنے سے متعلق سخت اہداف سے اجتناب کر رہے تھے تاہم اب انھیں اس امر کا اندازہ ہوا ہے کہ انھیں کوئلے سے حاصل ہونے والے ایندھن پر انحصار کو ختم کرنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
چینی صدر شی جن پنگ نے پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں بھی کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
چین میں جدید قسم کی توانائی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہونے کے باوجود اب بھی تقریبا 60 فیصد تک کوئلے کا استعمال کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں پیرس میں ہونے والی کانفرنس میں چین نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنے کے لیے کوئلے کے استعمال میں بتدریج کمی کی جائے گی۔







