فضائی آلودگی پر قابو پانے کےلیے چین کو قرضہ

،تصویر کا ذریعہOther
ایشیائی ترقیاتی بینک چین کو اس کے دارالحکومت بیجنگ اور اس کے اطراف میں فضائی آلودگی کی خطرناک سطح پر قابو پانے کے لیے 300 ملین ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا۔
اے ڈی بی کے مطابق بیجنگ میں فضائی آلودگی کی سطح اس حد تک بلند ہوگئی ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی صحت اور پائیدار ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
اس قرضے کا مقصد فضائی آلودگی کے دیگر مسائل حل کرنے کےعلاوہ کوئلے کے استعمال کو کم کرنا ہے۔
اس وقت دنیا میں فضائی آلودگی پیدا کرنےمیں سب سے بڑا حصہ چین کا ہے۔
اس قرضے سے بیجنگ اور اس کے مضافاتی علاقوں ’ہیبی‘ اور ’تیانجن‘ کی فضائی آلودگی پر خصوصی کام کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینک کے مطابق اس علاقے کی آبادی 10 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے، جہاں سے چین کے مقامی پیداوار کا 10 فیصد حاصل کیا جاتاہے۔
اے بی ڈی کے شہری ترقی کے ماہر ستوشی اشی نے کہا ہے کہ ’علاقے میں فضائی آلودگی کا مسئلہ اس حد تک سنگین صورت حال اختیار کر گیا ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی صحت اور پائیدار ترقی کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ ہمارے تعاون سے چین میں کاربن کے اخراج کو روکنے اور ماحولیاتی ضوابط کے فریم ورک کو مضبوط کرنےمیں مدد ملے گی۔‘
انھوں نےکہا کہ ’فضا کے بہترمعیار سے علاقے اور اس کے مضافات کی معیشت اور لوگوں کی صحت پر مثبت اثرات پڑیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہSam
اے بی ڈی کی جانب سے قرضے کی یہ رقم اس ہفتے پیرس میں اختتام پذیر ہونے والے بین الاقوامی ماحولیاتی اجلاس کے بعد دی جائے گی۔
بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ توقع ہے کہ وہ اس قرضے میں جرمنی کا ’کےایف ڈبلیوڈیویلپمنٹ بینک‘ بھی 150 ملین یورو کی مدد کرے گا۔
یہ معاہدہ اس ہفتے کے آغاز میں بیجنگ میں آلودگی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر جانے کے بعد کیا گیا۔
دو سال قبل فضائی آلودگی پر نظر رکھنے والے نظام کو متعارف کروانے کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چین نے ’ریڈ الرٹ‘ کا اعلان کیا ہے۔
اس کے بعد بیجنگ میں تمام سکولوں کو بند کردیا گیا، تعمیراتی کام روک دیا گیا، سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد محدود کردی گئی اور کچھ فیکٹریوں کو کام روکنے کا حکم بھی دیا گیا۔
کوئلے کا استعمال کرنے والی صنعتوں، گاڑیوں اور مشینوں کے دھویں اور تعمیراتی کام کے دوران اڑنے والی دھول اور مٹی فضا میں آلودگی کو خطرناک حد تک بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بیجنگ میں موجود امریکی سفارت خانے کے محکمہ فضائی آلودگی نے بتایا کہ ریڈ الرٹ کے اعلان کے وقت آلودگی پیدا کرنے والے ننھے ذرات پی ایم 5۔2 کی تعداد فضا میں 291 مائکرو گرامز فی کیوبک میٹر تھی۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق فضا میں ان ذرات کی موجودگی کی محفوظ سطح 25 مائکروگرامز فی کیوبک میٹر تک ہے۔
دوسرے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنے کے باوجود چین ابھی بھی اپنی توانائی کے لیے 60 فیصد تک کوئلے پر ہی انحصار کرتاہے۔







