بیجنگ میں دھند اور گرد و غبار کے بادل، ریڈ الرٹ جاری

حکام کے مطابق شہر کی فضا مزید تین تک دھند اور گردوغبار سے آلودہ رہ سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق شہر کی فضا مزید تین تک دھند اور گردوغبار سے آلودہ رہ سکتی ہے

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں فضائی آلودگی میں اضافے کے بعد ’ریڈ الرٹ‘ جاری کر دیا گیا ہے جس کے بعد سکولوں میں تعطیل ہے اور تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> بیجنگ فضائی آلودگی کی لپیٹ میں (تصاویر)</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/12/151207_beijing_smog_pictures_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بیجنگ میں ’اورنج الرٹ‘ جاری</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151129_china_smog_pollution_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا کے مطابق ریڈ الرٹ بلند ترین سطح ہے اور اس سے قبل شہر میں اسے کبھی لاگو نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق شہر کی فضا مزید تین تک دھند اور گردوغبار سے آلودہ رہ سکتی ہے۔

اس دوران آلودگی کم کرنے کے لیے ایک دن طاق عدد والی نجی گاڑیوں اور دوسرے دن جفت عدد نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چلانے کی اجازت ہوگی۔

یہ الرٹ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب چین پیرس میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔

اگرچہ بیجنگ میں آلودگی کی سطح گذشتہ ایک ہفتے سے کم رہی ہے تاہم ریڈ الرٹ اس لیے جاری کیا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ریڈ الرٹ کا اطلاق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے ہوگا اور یہ جمعرات کو دن 12 بجے تک رہے گا۔

امید کی جارہی ہے کہ اس دوران موسم میں خنکی کے باعث دھند اور گرد کے بادل چھٹ جائیں گے۔

چین کی سی سی ٹی وی کے مطابق ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بیجنگ کے کچھ حصوں میں حد نگاہ صف 200 میٹر تک رہ گئی تھی۔

ریڈ الرٹ کا اطلاق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے ہوگا اور یہ جمعرات کو دن 12 بجے تک رہے گا

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنریڈ الرٹ کا اطلاق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بجے ہوگا اور یہ جمعرات کو دن 12 بجے تک رہے گا

خیال رہے کہ کوئلے سے چلنے والی کارخانوں اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والے گردغبار سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ حبس اور ہواؤں کی بندش سے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے گرین پیس کے کارکنوں نے چینی حکومت سے ریڈ الرٹ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

دسمبر 2013 میں ایک اور چینی شہر ننجیانگ میں بھی ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 30 نومبر کو بیجنگ میں ’اورنج الرٹ‘ جاری کیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکام کاربن کے اخراج کو روکنے سے متعلق سخت اہداف سے اجتناب کر رہے تھے تاہم اب انھیں اس امر کا اندازہ ہوا ہے کہ انھیں کوئلے سے حاصل ہونے والے ایندھن پر انحصار کو ختم کرنا ہوگا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں بھی کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔