ایرانی جوہری پروگرام کی 12 برس سے جاری تحقیقات ختم

،تصویر کا ذریعہEPA
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ایران کے جوہری سرگرمیوں کے بارے میں 12 برس سے جاری تحقیقات کو بند کر دیا ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ تحقیقات کر رہا تھا کہ آیا ایران کہیں اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار تو تیار نہیں کر رہا۔
اب 12 برس سے جاری تحقیقات کو ختم کرنے کا اعلان ایران پر امریکی، یورپی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹائے جانے کی اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے 2003 تک ریسرچ کی تھی اور 2009 تک بہت محدود پیمانے پر ریسرچ کی تھی لیکن اس کے بعد سے ایسی کسی ریسرچ کے شواہد نہیں ملے۔
آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے ماضی میں جوہری بم بنانےکے لیے محدود قدم اٹھائے تھے لیکن یہ کوششیں منصوبہ بندی اور بنیادی اجزا کا جائزہ کرنے سے آگے نہیں بڑھیں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ائی اے ای اے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران ہمیشہ سے کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ویانا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف عائد اقتصادی پابندیاں جنوری کے وسط تک اٹھائی جا سکتی ہیں۔
ایک بیان میں آئی ای اے کی سربراہ نے کہا کہ ایران اس پر لگی جوہری پابندیوں پر عملدرآمد بہت تیزی سے کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران پر لگی پابندیوں پر نظر رکھنے والے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں ایران کی جانب سے میزائل کا تجربہ اقوام متحدہ کی قرارداد خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ماہرین کے پینل کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ایران بیلسٹک میزائل کی تیاری پر آٹھ سال تک کام نہیں کرے گا۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں کیے جانے والا میزائل تجربہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔







