’ایران کا امریکہ کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہوگا‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران شام، عراق، فلسطینیوں اور یمن اور بحرین میں ’پسے ہوئے لوگوں‘ کی حمایت جاری رکھے گا

،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir

،تصویر کا کیپشنان کا کہنا تھا کہ ایران شام، عراق، فلسطینیوں اور یمن اور بحرین میں ’پسے ہوئے لوگوں‘ کی حمایت جاری رکھے گا

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے طے پانے والے جوہری معاہدے کے باوجود ایران کا ’مغرور‘ امریکہ کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہوگا۔

مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے اختتام پر اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کے ابھی بھی امریکہ کے ساتھ واضح اختلافات قائم ہیں، خاص طور پر ان کی مشرقی وسطیٰ کی پالیسی کے بارے میں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران شام، عراق، فلسطینیوں اور یمن اور بحرین میں ’پسے ہوئے لوگوں‘ کی حمایت جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں اپنے دونوں کی مدد کرنا کبھی ختم نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گذشتہ دنوں دو سال کے طویل مذاکرات کے جوہری معاہدہ طے پایا ہے۔

اس معاہدے کے مطابق کم از کم آئندہ دس سال کے دوران جوہری پروگرام محدود کرنے پر ایران کے خلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیاں نرم کر دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا ’اس معاہدے کے بعد بھی مغرور امریکہ کے حوالے سے ہماری پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔‘

اپنے خطاب میں آیت اللہ علی خامہ ای نے اس امر کی بھی تردید کی کہ ایران ایٹم بم بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گذشتہ دنوں طویل مذاکرات کے جوہری معاہدہ طے پایا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گذشتہ دنوں طویل مذاکرات کے جوہری معاہدہ طے پایا ہے

تہران کی مصلیٰ مسجد میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا: ’امریکہ کہتا ہے کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔‘

’وہ جانتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔ ہمارے پاس فتویٰ ہے کہ اسلامی قوانین کے مطابق جوہری ہتھیار ممنوع ہیں۔ اس کا جوہری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

’ہم نے بار ہا مرتبہ کہا ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ علاقائی یا بین الاقوامی معاملات پر مذاکرات نہیں کریں گے، اور نہ ہی دو طرفہ معاملات پر۔‘

آیت اللہ خامہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی سیاست دانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی جانچ پڑتال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس میں ایرانی مفادات محفوظ رہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی خیالات صدر حسن روحانی اور وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے کیے جانے والے معاہدے کے برعکس ہیں۔