ایرانی قدامت پسندوں کو شاید رائے تبدیل کرنا پڑے

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ویانا میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ ایرانی صدر حسن روحانی کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔
2003 میں صدر خاتمی کی کابینہ میں قومی سکیورٹی کونسل کے سربراہ کے طور پر حسن روحانی نے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے اس وقت کے اقوام متحدہ میں مندوب اور موجودہ وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے ساتھ مل کر دونوں نے یورپ اور نیو یارک میں ان مذاکرات کی ذمہ داری سنبھالی۔
اُن مذاکرات میں ایران نے یورینیئم کی افزودگی روکنے کی حامی بھر لی تھی۔ تاہم اس موقعے پر 2005 میں محمود احمدی نژاد کی صدارت آنے کی وجہ سے مذاکرات روکنا پڑے۔
اگلے سال ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی اور اقوام متحدہ نے جوابی پابندیوں کا سلسلے شروع کر دیا۔
2013 میں حسن روحانی صدر منتخب ہوئے۔ اپنی انتخابی مہم میں انھوں نے وعدے کیے تھے کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ معاہدہ کر کے ایران پر بین الاقوامی پابندیاں ختم کروائیں گے۔
منگل کو انھوں نے کہا کہ جوہری معاہدہ ’ہمارے ملک کے خلاف مظالم کا اختتام اور بین الاقوامی تعاون کا آغاز ہے۔‘
تاہم توقع کے مطابق ایران میں کچھ قدامت پسندوں کی جانب سے اس معاہدے کی مخالفت کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
کیہان نامی اخبار کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ایران کی ریڈ لائن مبہم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب شرق اخبار کی ہیڈ لائن تھی ’جنگ کے بغیر فتح۔‘
اور ایران کے عام شہریوں کے یہ ایک جشن کا دن تھا۔
اپنے خطاب میں صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پابندیوں کا لوگوں کی زندگیوں پر اثر پڑا تھا۔
عالمی سطح پر کئی سال کی تنہائی، مہنگائی کی بلند شرح، تجارت اور آمد و رفت کے مسائل، انشورنس اور بینکاری میں مشکلات اور یہاں تک کہ ثقافتی تبادلوں میں دقت، ان تمام مسائل سے ایرانی اب تھک چکے ہیں۔
انھیں معلوم ہے کہ پابندیاں ختم ہونے سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا، دنیا بھر سے تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے اور نئی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔
انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ معاہدے کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آئیں گے مگر کم از کم آہستہ آہستہ تیل کی آمدنی کا آغاز ہو سکتا ہے جو کہ ماہانہ 8 ارب ڈالر تک ہوگی۔
ایرانی کرنسی کی بھی قیمت میں بہتری آئے گی۔ تجارت میں بہتری کی وجہ سے ملازمتوں میں بھی اضافے کی توقع ہے۔
اگرچہ اس معاہدے سے ایران میں تبدیلی کے خواہاں عناصر سیاسی طور پر بہت زیادہ طاقتور تو نہیں ہو جائیں گے مگر آئندہ پارلیمانی انتخابات میں صدر روحانی کے دوبارہ کامیاب ہونے کے امکانات میں بہت اضافہ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پابندیوں کا ہٹنا ایران کی طاقتور پاسدارانِ ایران کے لیے بھی خوشی کی بات ہے کیونکہ وہ خود اربوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں۔
اگرچہ پاسدارانِ ایران ملک کے سیاسی پس منظر میں اہم ترین کردار رکھیں گے مگر شاید عسکری قیادت اب عراق میں امریکی فوجیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے زیادہ رضامند ہوں۔
اس معاہدے کی وجہ سے ایران میں موجود عام رائے کو بھی چیلنج ہو سکتا ہے جس کی جڑیں 1979 میں اسلامی ریاست کے قیام سے اب تک امریکہ دشمنی پر مبنی ہیں۔
سنیچر کو ایک یونیوسٹی کے طالب علم نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے پوچھا ’کیا ہمیں جوہری مذاکرات کے بعد مغربی تکبر کے خلاف لڑائی جاری رکھنی چاہیے؟‘ جس کے جواب میں انھوں نے کہا ’تکبر اور عالمی آمریت کے خلاف جنگ ہمیشہ جاری رہے گی۔‘
گذشتہ 35 سال سے آمرانہ حکومت مغرب مخالف رائے عامہ کا استعمال کرتی رہی ہے اور جمہوری اقدار اور انفرادی حقوق کو محدود رکھا ہے۔
مگر آیت اللہ خامنہ ای لوگوں کو اسی پرانی کہانی میں محو نہیں رکھ سکتے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا پیغام تبدیل کر رہے ہیں۔
معاہدہ طے پانے کے موقعے پر صدر روحانی کو مبارکباد دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اچھا رہنما نیک صفت اور لوگوں کو دل سے محبت کرتا ہے۔
اس معاہدے کی وجہ سے ایران میں مغربی ممالک کے حوالے سے رویہ تبدیل نہیں ہوگا اور نتائج اخذ کرنے کے لیے شاید ابھی تھوڑی جلدی ہے۔
مگر ہم جنگ کے بجائے سفارت کاری کی فتح تو منا ہی سکتے ہیں جن سے تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔







