ایران معاہدہ: کس کو کیا ملا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران اور مغربی ممالک کے درمیان طویل اور مشکل مذاکرت کے بعد جوہری پروگرام پر حتمیٰ معاہدے طے پا گیا ہے۔ اس کے معاہدے کے خطے پر کیا اثرات ہوں گے اور اس سے ایران اور مغربی ممالک کو کیا حاصل ہوا ہے؟
بی بی سی نے برطانیہ کے تھنک ٹینک رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ٹموتھی سٹیفرڈ سے پوچھا کہ جوہری معاہدے میں جیت کس کی ہوئی ہے؟
اس کے جواب میں تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ’امید ہے دونوں کی۔ ایران کو امریکی، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندیوں میں نرمی مل جائے گی جبکہ امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں میں کامیابی ملی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جس طریقے سے یہ معاہدہ بنایا گیا ہے اس میں عالمی طاقتوں کو قلیل مدتی برتری ملی ہے، لیکن ہتھیاروں پر جزوی پابندی رہے گی، میزائلوں پر پابندی رہے گی اور ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد ہوں گی۔ ایران کو اس معاہدے کے چند سال گزر جانے کے بعد پابندیاں ہٹائے جانے سے فائدہ ہو گا۔ جب یہ معاہدہ دس سے 15 سال کے عرصے میں داخل ہو گا تو ایران کو زیادہ فائدہ پہنچے گا اور معاہدے کے آخری سالوں میں جوہری پروگرام پر لگی پابندیاں ہٹنی شروع ہوں گی۔‘
جوہری معاہدے کے بعد تکنیکی لحاظ سے کیا تبدیلی ہوئی ہے؟
اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار ٹموتھی سٹیفرڈ نے کہا کہ ’جوہری تنصیبات کا معائنہ زیادہ سخت ہو گا۔ ابھی تک یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ معائنہ کار کون سی تنصیبات پر جا سکیں گے، لیکن اب یہ سب کچھ حل ہو گیا ہے۔‘
ایران کے لیے اس معاہدے سے کے بعد ہونے والی تبدیلی پر تجزیہ کار نے کہا کہ ’ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بات چیت سے کسی حد تک اتنی مہلت مل گئی ہے اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایران کی جوہری مقامات کو محدود کر دیا گیا ہے۔‘
’افزودہ یورینیئم کے مواد کو کم کیا گیا ہے اور یورینیئم کو افزودہ کرنے والے سینٹری فیوجز کی تعداد بھی کم کی گئی ہے۔ ان شرائط پر اتفاق کی وجہ سے معاہدے کی حتمی مدت میں 12 مہینوں کی توسیع ہوئی ہے۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شرائط کے تحت اگر ایران نے خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو سیاسی جواب دیا جا سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ’ امریکیوں کی خیال میں ایران کے جوہری ہھتیار حاصل کرنے کی صلاحیت محدود کرنے سے خطے میں امن آئے گا کیونکہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کی اہم وجہ بھی یہی ہے اور دوسرے ممالک بھی جوہری صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خطے میں امریکہ کے اتحادی اسرائیل اور خلیجی ممالک خاص کر اس پر پریشان ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں ایران کے پاس تیل کی دولت کے علاوہ منجمد اثاثوں کے ذریعے زیادہ وسائل آ جائیں گے۔ ایران کو اسلحے کی فروخت پر پابندی بھی رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی۔ ایران آئندہ دس سے 15 برسوں میں خطے میں زیادہ طاقت ور ہو کر اپنا اثر و رسوخ ظاہر کرے گا۔‘







