ویانا میں جوہری معاہدے کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگوں نے جشن منایا۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریا کے شہر ویانا میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگوں نے جشن منایا۔
،تصویر کا کیپشنلوگوں کی بڑی تعداد نے جہاں ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے وہیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی تصاویر بھی۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں چھ عالمی قوتیں امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس، جرمنی اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت گذشتہ کئی ماہ سے جاری تھی۔ اس معاہدے کے لیے مذاکرات سنہ 2006 میں شروع ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنامریکی ایوان نمائندگان کے کنزویٹو ارکان نے جوہری پروگرام کے معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
،تصویر کا کیپشناسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’ایک تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد کہا کہ کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقۂ کار تھا اور ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تمام راہیں بند کر دی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنصدر حسن روحانی نے معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آج ہم ایک نئے مقام پر پہنچے ہیں۔ جوہری معاہدہ دنیا سے تعلقات کی نئی شروعات ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ ان مذاکرات میں ہار جیت نہیں ہے۔ یہ ایسے ہونے چاہیئیں جو سب کو منظور ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جوہری معاہدہ ایران اور مغرب کے درمیان اچھے تعلقات کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔
،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کے خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم سب اس فیصلے کے بارے میں جانتے ہیں جو کہ جوہری پروگرام کے بارے میں لیا جا رہا ہے لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ عالمی تعلقاتِ عامہ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنروس کے صدر ویلادمیر پیوتن نے کہا ہے کہ ’ایران کے جوہری معاہدے پر دنیا سکون کی گہری سانس لے گی۔ اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔‘