’جوہری معاہدہ دنیا کو محفوظ مقام بنانے کا نادر موقع ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران سے کیا جانے والا جوہری معاہدہ دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کا ایسا موقع ہے جو زندگی میں ایک ہی بار ملتا ہے۔
منگل کو طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو بڑی حد تک محدود کر دیا گیا ہے جس کے بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آئندہ ہفتے اس معاہدے کی حمایت میں لائی جانے والی قرارداد پر ووٹنگ ہوگی۔
بدھ کو امریکی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران سے اس کے ہمسایوں کو لاحق تمام خطرات تو ختم نہیں کرتا لیکن اس بات کو ضرور یقینی بناتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سے جوہری معاہدے کے ناقدین کا مقابلہ ’99 فیصد دنیا اور جوہری ماہرین کی اکثریت سے ہے‘۔
براک اوباما نے کہا کہ اس معاہدے پر امریکی کانگریس میں ٹھوس اور مدلل بحث ہوگی۔ امریکی حزبِ اختلاف کی جماعت رپبلکن پارٹی نے صدر اوباما پر ایران سے ’صلح‘ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
صدر نے معاہدے کے ناقدین سے کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی بہتر حل ہے تو وہ اسے سامنے لائیں۔
براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’اگر 99 فیصد دنیا اور جوہری ماہری کی اکثریت سمجھتی ہے کہ یہ ایران کو جوہری بم کے حصول سے روکے گا اور آپ بحث کر رہے کہ ایسا نہیں ہوگا اور اگر ہوا بھی تو عارضی ہوگا تو آپ کے پاس کوئی متبادل ہونا چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے جوہری معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دنیا کو ’مشرقِ وسطیٰ میں مزید لڑائی کا سامنا رہتا۔‘
براک اوباما نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کے بعد دہشت گردی کی حمایت اور مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی درپردہ کوششوں کے لحاظ سے’ایران کا رویہ تبدیل ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ شام اور یمن میں جاری جنگوں کے خاتمے کے لیے ایران سے بہتر تعاون کا خواہشمند ہے لیکن وہ اس پر ’شرط لگانے کو تیار نہیں ہیں۔‘
انھوں نے امریکی کانگریس کے ارکان سے کہا کہ وہ اس معاہدے کو ’حقائق کی بنیاد پر جانچیں نہ کہ سیاست کی بنیاد پر۔‘
کانگریس کے پاس اس معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے دو ماہ کا وقت ہے۔







