اوباما مخالف لابی کی ایران کے ساتھ معاہدے پر تنقید

امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلیکن سپیکر جان بوہنر کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے صرف تحران کو’شہہ‘ ملے گی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنامریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلیکن سپیکر جان بوہنر کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے صرف تحران کو’شہہ‘ ملے گی

امریکی ایوان نمائندگان کے کنزویٹو ارکان نے ایران اور چھ عالمی قوتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے سلسلے میں ہونے والے معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران کے خلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اور ایران اپنی جوہری تنصیبات کو اقوام متحدہ کے معائنوں کے لیے کھول دے گا۔

امریکی کانگریس کے پاس اس معاہدے پر غور کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ہے تاہم صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ اگر کانگریس نے ایران معاہدے کے خلاف کوئی قانون سازی کی تو وہ اس کو ویٹو کر دیں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے ایران کے جوہری معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں چھ عالمی قوتیں امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس، جرمنی اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت گذشتہ کئی ماہ سے جاری تھی۔ اس معاہدے کے لیے مذاکرات سنہ 2006 میں شروع ہوئے تھے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلیکن سپیکر جان بوہنر کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے صرف تحران کو’شہہ‘ ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی بجائے یہ معاہدہ دنیا میں ’جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دینے کا باعث بنے گا۔‘

ریپبلیکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس معاہدے کو ’خوفناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معاملات مزید خراب ہوں گے۔

ادھر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’ایک تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو سینکڑوں اربوں ڈالروں کے ذریعے دہشت گردی کی مشین اور مشرق وسطیٰ اور دنیا میں اپنے جارحانہ عزائم کی توسیع اور جارحیت کو پھیلانے کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’ایک تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’ایک تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے

بن یامین نتن یاہو کے مطابق اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے اور ’ہم خود ہمیشہ اپنا دفاع کریں گے۔‘

امریکی صدر اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد کہا کہ کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقۂ کار تھا اور ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تمام راہیں بند کر دی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اہم رکاوٹ ہے۔

صدر اوباما نے ٹی وی خطاب کرتے ہوئے کہا اس معاہدے سے دنیا ’مزید محفوظ اور مستحکم‘ ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اعتماد پر نہیں بلکہ تصدیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

دریں اثنا ایرانی صدر حسن روحانی نے معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آج ہم ایک نئے مقام پر پہنچے ہیں۔ جوہری معاہدہ دنیا سے تعلقات کی نئی شروعات ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ ان مذاکرات میں ہار جیت نہیں ہے۔ یہ ایسے ہونے چاہیئیں جو سب کو منظور ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم ہو جائیں گی کیونکہ ان پابندیوں نے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا تھا۔.