پاکستان سے دوریاں ترقی کی راہ میں حائل تھیں: سشما سوراج

،تصویر کا ذریعہEPA
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایوان بالا میں شور شرابے کے باوجود اپنے حالیہ دورہ پاکستان پر بیان دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
پیر کے روز ایوان بالا میں جوں ہی انھوں نے اپنے دورہ پاکستان کے متعلق بیان کا آغاز کیا تو حزب اختلاف نے شور مچا کر انھیں ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی آواز مشکل سے ہی سنی جا رہی تھی تاہم انھوں نے شور شرابے کے باوجود اپنا بیان جاری رکھا۔
<link type="page"><caption> پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی کے فیصلے کا خیرمقدم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151210_pak_india_dialogue_reaction_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے ایوان کو بتایا کہ کن حالات میں اسلام آباد کا دورہ کیا گیا اور وہاں کیا ہوا۔
سشما سوراج نے کہا کہ ’بھارت کی پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش رہی ہے۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ باہمی جامع مذاکرات سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور یہ دونوں ممالک کے رہنماؤں اور عوام کی خواہش بھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ انھوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان حائل ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے کہا: ’ہم نے ممبئی حملے کا معاملہ اٹھایا اور پاکستان سے اس میں شامل لوگوں کو بھارت کے حوالے کیے جانے کی بات کہی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو خطے میں امن اور ترقی کی نئی شروعات کے طور پر دیکھتا ہے۔‘
سشما سوراج نے کہا: ’حکومت ملکی سلامتی کے ساتھ پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن ماحول کے فروغ اور تعاون کے رشتے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔‘
ان کہنا تھا کہ ’بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں دوریاں خطے میں امن اور ترقی کی راہ میں حائل تھیں۔‘
لیکن شور شرابے کے درمیان راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا کو مقامی وقت کے مطابق 12 بجے تک ملتوی کر دیا گيا اور پھر اسے دوبارہ ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اب وہ دوپہر دو بجے لوک سبھا یعنی ایوان زیریں میں اپنے پاکستانی دورے کے بارے میں بیان دیں گی۔
خیال رہے کہ راجیہ سبھا گذشتہ چند دنوں کے درمیان کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے تعطل کا شکار رہی ہے۔
کانگریس نے پیر کو کیرالہ، پنجاب اور آسام کے معاملے پر پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں مظاہرہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہ
کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ آسام کے دورے کے دوران ہندو سخت گیر تنظیم آر ایس ایس کے کارکنوں نے انھیں ایک مندر میں جانے سے روکا۔
کانگریس کے نائب صدر نے الزام لگایا کہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کو اس پروگرام میں جانے سے روکا جا رہا ہے اور پنجاب میں معصوم لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اور دلتوں کو مارا جا رہا ہے۔
انھوں نے ان تین واقعات کے بارے میں کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سوچ کا نتیجہ ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا: ’یہ ان کے کام کرنے کا طریقہ ہے، ایک کانگریسی وزیر اعلیٰ کو پروگرام میں جانے سے روکو، مندر جانے سے روکو اور دلتوں کو مارو۔ کیرالہ، آسام، پنجاب اور پورے ملک کے لوگوں کو یہ قبول نہیں۔ حکومت کو کام کرنے کا اپنا طریقہ بدلنا ہو گا۔‘







