’پاکستان شہری مانے تو رمضان کو بھیجنے کے لیے تیار ہیں‘

رمضان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر کراچی کا رہنے والا ہے

،تصویر کا ذریعہs. niyazi

،تصویر کا کیپشنرمضان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر کراچی کا رہنے والا ہے

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مدھیہ پردیش کے درالحکومت بھوپال میں رہنے والے لڑکے رمضان سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اگر پاکستان رمضان کو اپنا شہری تسلیم کرتا ہے تو بھارت اسے پاکستان بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

رمضان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر کراچی کا رہنے والا ہے تاہم اس کے پاس اس کے شواہد نہیں ہیں۔

سشما سوراج نے ٹوئٹر پر یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ’رمضان اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔‘

انھوں نے ٹویٹ کیا: ’آج میں بھوپال میں رمضان سے ملی۔۔۔اگر پاکستان رمضان کو اپنا شہری تسلیم کرتا ہے تو ہمیں اسے پاکستان بھیجنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے اپنی اور رمضان کی تصویر بھی ٹویٹ کی ہے۔

رمضان اس وقت غیر سرکاری ادارے ’آرمبھ‘ نامی چلڈرن ہوم میں رہ رہا ہے اور جلد از جلد کراچی جانے کی آس لگائے بیٹھا ہے۔

اس سے قبل رمضان کے متعلق دستاویزات کی کمی کے سبب اسے واپس بھیجنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔

گیتا کی واپسی پر بھارتی وزیر خارجہ سے رمضان نے بھی ملاقات کی تھی

،تصویر کا ذریعہMEA INDIA

،تصویر کا کیپشنگیتا کی واپسی پر بھارتی وزیر خارجہ سے رمضان نے بھی ملاقات کی تھی

خیال رہے کہ پاکستان میں کئی برسوں تک رہنے والی لڑکی گیتا جب بھارت آئی تھی تب بھی انھوں نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی تھی۔

رمضان کے مطابق وہ کراچی کا رہنے والا ہے اور رمضان کے والد چند سال قبل اسے پاکستان سے بنگلہ دیش لے گئے تھے۔

رمضان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش پہنچ کر ان کے والد نے دوسری شادی کر لی اور وہ بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرتا ہوا ہندوستان پہنچ گیا۔

سشما سوراج پیر کو اندور میں پاکستان سے بھارت آنے والی لڑکی گیتا سے بھی ملاقات کرنے والی ہیں۔

گیتا ایک دہائی سے زیادہ وقت پاکستان میں رہنے کے بعد گذشتہ ماہ بھارت لوٹی ہیں۔

بھارت کے کئی خاندان نے دعوی کیا تھا کہ گیتا ان کی بیٹی ہے لیکن ڈی این اے ٹیسٹ میں ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

گیتا کو ابھی بھی بھارت میں اپنے خاندان کی تلاش ہے۔