’ہندوستان کی بیٹی‘ کا سفر اب شروع ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
گیتا کا اصل نام گیتا نہیں، اس کے گھر والوں کا وثوق کے ساتھ پتہ نہیں، جس تصویر سے اس نے اپنے ماں باپ کی شناخت کی ہے اس میں نظر آنے والے باقی لوگوں سے اس کی کوئی مشابہت نہیں، اس کی صحیح عمر کا اندازہ نہیں ۔۔۔ ’ہندوستان کی بیٹی‘ گھر تو آگئی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا سفر اب بس شروع ہوا ہے۔
گیتا نہ بول سکتی ہے اور نہ سن سکتی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کےدرمیان انسان دوستی کی ایک علامت بن گئی ہے، اور ایک ’سفارتی موقع‘ بھی جس سے دونوں ملکوں کی حکومتیں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔

دہلی ہوائی اڈے پر پاکستانی ہائی کمیشن کے اعلیٰ اہلکاروں نے اس کا استقبال کیا، اس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ میں وفاقی وزیر سشما سوراج سے ان کی ملاقات ہوئی اور شام کو ہائی کمشنر عبدالباسط گیتا کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔
اس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ ہوں گے اور اگر جن لوگوں کی انھوں نے اپنے ماں باپ کے طور پر شناخت کی ہے، وہ واقعی ان کے والدین ثابت ہوتے ہیں تو انھیں معلوم ہوگا کہ وہ ایک ماں بھی ہے جس کا ایک 11 سال کا بچہ ہے، اور ایک شوہر بھی جو پنجاب میں مزدوری کرتا ہے۔
یہ غریب خاندان بہار سے تعلق رکھتا ہے۔ سسرام شہر سے 30 کلومیٹر کا کچا راستہ ایک دریا تک پہنچاتا ہے، اس کے بعد ریتیلے راستے پر تین کلومیٹر پیدل، پھر کشتی سے دریا کے دوسرے پار، پھر ڈھائی کلومیٹر پیدل اور آپ اس گاؤں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں گیتا کو لگتا ہے کہ اس کا گھر ہوسکتا ہے۔
نہ بجلی نہ سڑکیں، یہ گاؤں بھارت کے پسماندہ دیہی علاقوں کے مقابلے میں بھی پچھلی صدی میں جی رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن جب استقبالی تقریبات ختم ہو جائیں، تب بھی کچھ سوال باقی رہ جائیں گے۔ گیتا کی عمر کتنی ہے، وہ کن حالات میں پاکستان پہنچی، اگر وہ واقعی شادی شدہ ہے اور اس کا بچہ بھی ہے تو یہ بات اس نے ایدھی خاندان کے ان لوگوں کو کیوں نہیں بتائی جو اتنے لمبے عرصے سے اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے؟
ہو سکتا ہے کہ ان سوالات کا جواب ڈی این اے ٹسیٹ سے مل جائے اور یہ اس کے اہل خانہ نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے صرف بھارت لوٹنے کے لیے ایک تصویر کا انتخاب کیا ہو، ہوسکتا ہے کہ اس کے بچپن کی یادیں وقت کے ساتھ دھندلی پڑ گئی ہوں۔۔۔لیکن اگر سرحد پار کرنے سے پہلے اس کی واقعی شادی ہوچکی تھی، وہ ماں بن چکی تھی تو وہ اتنی چھوٹی تو نہیں رہی ہوگی کہ اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو نہ پہچان سکے۔
اور ایسا کیوں ہے کہ تین خاندان اسے اپنا بتا رہے ہیں؟ کیا وہ اپنی بیٹی کو نہیں پہچانتے؟

ایک دو ہفتوں میں تصویر کچھ واضح ہوگی۔ ہو سکتا ہےکہ گیتا کو اس کے بچھڑے ہوئے ماں باپ مل جائیں، اور یہ کہانی بھی بجرنگی بھائی جان کی طرح ایک خوشیوں بھرے انجام تک پہنچ جائے۔
لیکن یہ کہانی جتنی گیتا کی ہے اتنی ہی ایدھی خاندان کی بھی ہے۔ بھارت کی اس بیٹی کی پرورش پاکستان میں ہوئی ہے۔ اس لڑکی نے خود اپنا نام گیتا نہیں رکھا تھا، یہ نام اسے سرحد پار دیا گیا، اس کے کمرے میں ہندو دیوی، دیوتاؤں کی وہ تصاویر جن کے سامنے پوجا کرتے ہوئے وہ اکثر بھارتی ٹی وی چینلوں پر نظر آتی تھی، اسے سرحد پار ہی مہیہ کرائی گئی تھیں، ایک ایسے ملک میں جس کے اپنے بہت سے ہندو شہری بھاگ کر بھارت میں پناہ لے رہے ہیں۔
گیتا نہ سن سکتی ہے اور نہ بول سکتی ہے لیکن اس کی زندگی کا حیرت انگیز سفر رواداری اور انسان دوستی کی ایک جگمگاتی ہوئی مثال ہے، ایک ایسا پیغام جو صاف سنائی دیتا ہے۔







