قندھار جھڑپوں میں ’46 افراد ہلاک‘

صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہا یے کہ حملہ آور کمپلیکس کے پہلے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصوبائی حکومت کے ترجمان کا کہا یے کہ حملہ آور کمپلیکس کے پہلے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے

افغانستان کے شہر قندھار میں حکام کے مطابق طالبان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں طالبان شدت پسندوں، سکیورٹی افواج اور عام شہریوں سمیت کم سے کم 46 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کو قندھار کے ہوائی اڈے پر ہونے والی جھڑپ میں متعدد افراد کو یرغمال بنایا گیا۔

قندھار کے ہوائی اڈے کے کمپاؤنڈ میں نیٹو اور افغانستان افواج کے فوجی ہیڈ کوارٹرز بھی شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہا کہ حملہ آور فوجی کمپلیکس کے پہلے گیٹ کو توڑنے میں کامیاب رہے۔

حکام کے مطابق وہاں اب بھی فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ تمام پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

منگل کی شام ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ قندھار افغان طالبان کا اہم مرکز رہا ہے۔

قندھار ہوائی اڈے میں نیٹو اور افغان افواج کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم ہیں
،تصویر کا کیپشنقندھار ہوائی اڈے میں نیٹو اور افغان افواج کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم ہیں

افغانستان کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس جھڑپ میں 37 افراد ہلاک ہوئے جن میں عام شہری، سکیورٹی افواج کے ارکان اور نو طالبان شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جھڑپ میں 35 افراد زخمی بھی ہوئے۔

فوجی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 41 لاشیں لائی گئیں جن میں چار فوجیوں کی لاشیں بھی تھیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ حملہ سکیورٹی کی مکمل ناکامی ہے کیونکہ حملہ آور ایک ایسے علاقے جو افغانستان کی قومی سکیورٹی افواج کی جانب سے محفوظ بنایا تھا وہاں آسانی کے ساتھ ہتھیار سمگل کر رہے تھے۔

اس سے پہلے صوبائی حکومت کے ترجمان سمیم خوپلوق نے خبررساں ادارے ای ایف پی کو بتایا تھا کہ ’کئی باغیوں‘ نے حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کمپلیکس کے اندر ایک سکول میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔

قندھار ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر احمداللہ فیضی نے اے ایف پی کو بتایا کہ لڑائی کے دوران کچھ مسافر ہوائی اڈے کے اندر پھنس گئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں کے بارے میں قیاس ہے کہ فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔

ایک طالبان نواز گروہ کا ایک ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ انھوں نے یہ حملہ ’مقامی اور غیرملکی فوجوں‘ کے خلاف کیا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ برس بیشتر امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ چند ماہ میں افغان طالبان نے جنگی میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کیں ہیں جن میں قندوز شہر میں مختصر مدت کے لیے قبضہ بھی شامل ہے۔